انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
بجلی کے جھٹکے سے بے ہوش کرکے یا دماغ میں کارتوس کی گولی مار کر ذبح کئے ہوے کا شرعی حکم اگر بجلی کا جھٹکا لگنے یا کارتوس کی گولی لگنے سے روح فنا نہیں ہوتی اور نہ دم گھٹ کر خون محتبس و منجمد ہوجاتا ہو بلکہ گردن کی رگوں کے کٹنے سےروح پرواز کرتی ہو اور خون سارا کا سارا نکل جاتا ہو اور گردن کی اکثر رگیں کٹ جاتی ہوں ، اور اس طرح گردن کی رگیں کاٹنے والے مسلمان یا ایسے اہلِ کتاب ہوں جو رگ کاٹتے وقت (بوقتِ ذبح )صرف اللہ ہی کا نام لیتے ہوں تو اگرچہ یہ طریقہ مکروہ اور خلافِ سنّت اور خلافِ طریق ِ انبیاء ہوگا ، مگر وہ جانور اگر ماکول اللحم ہے تو اس کا گوشت پاک و حلال رہےگا اور اس کا کھانا درست ہوگا ۔ (نظام الفتاوی :۱/۳۶۴