انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت اسماء بنتِ یزید رضی اللہ عنہا نام ونسب اسماء نام، ام سلمہ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، اسماء بنتِ یزید بن السکن بن رافع بن امراء القیس بن زید بن عبدالاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس۔ اسلام ہجرت کے بعد مسلمان ہوئیں اور چند عورتوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لیے آئیں، آپ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع میں تشریف فرما تھے؛ انہوں نے عرض کی کہ مسلمان عورتوں کی طرف سے ایک پیغام لے کرآئی ہوں، خدا نے آپ کومردوعورت سب کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور آپ پرایمان لائے ہیں؛ لیکن ہماری حالت مردوں سے بالکل جداگانہ ہے، ہم پردہ نشین ہیں، اس لیے جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوسکتے۔ اور مرد جمعہ اور جماعت میں شریک ہوتے ہیں، مریضوں کی عیادت کرتے ہیں، نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں، حج کوجاتے ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ جہاد کرتے ہیں؛ لیکن ان تمام صورتوں میں ہم گھر میں بیٹھ کران کی اولاد کوپالتے ہیں، گھروں کی حفاظت کرتے ہیں، کپڑوں کے لیے چرخہ کاتتے ہیں، توکیا اس صورت میں ہم کوبھی ثواب ملے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا توصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے فرمایا کہ تم نے کسی عورت سے ایسی گفتگو بھی سنی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپ نے اسماء رضی اللہ عنہا کوجواب دیا کہ عورت کے لیے شوہر کی رضاجوئی نہایت ضروری چیز ہے؛ اگروہ فرائضِ زوجیت ادا کرتی اور شوہر کی مرضی پرچلتی ہے تومرد کوجس قدر ثواب ملتا ہے عورت کوبھی اسی قدر ملتا ہے۔ (اسدالغابہ:۵/۳۹۸۔ استیعاب:۲/۷۲۶) جامعہ ترمذی، ابن سعد اور مسند ابن حنبل میں اس بیعت کا کس قدرتذکرہ آیا ہے، مسند میں ہے کہ اس بیعت میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خالہ بھی شریک تھیں، جوسونے کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنے تھیں، آپ نے فرمایا ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ بولیں نہیں، فرمایا توکیا تم کویہ پسند ہے کہ خدا آگ کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنائے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا خالہ ان کواُتاردو؛ چنانچہ فوراً تمام چیزیں اُتار کرپھینک دیں، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم زیور نہ پہنیں گے توشوہر بے وقعت سمجھے گا، ارشاد ہوا توپھرچاندی کے زیور بنواؤ اور ان پرزعفران مل لو کہ سونے کی چمک پیدا ہوجائے؛ غرض ان باتوں کے بعد جب بیعت کا وقت آیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبانی چند اقرار کرائے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں، اپنا ہاتھ بڑھائیے، فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ کنگن کا واقعہ خود حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا تھا۔ (ان واقعات کے لیے دیکھئے، مسند:۶/۴۵۳،۴۶۷۰،۴۶۱) عام حالات سنہ۱/ھ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اور وہ میکہ سے کاشانہ نبوت میں آئیں توجن عورتوں نے ان کوسنوارا تھا، ان میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بھی داخل تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوجلوے میں بٹھاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع کی، آپ ان کے پاس آکر بیٹھ گئے، کسی نے دودھ پیش کیا توتھوڑا ساپی کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کودے دیا، ا ن کوشرم معلوم ہوئی اور سرجھکالیا، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ڈانٹا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جودیتے ہیں لے لو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دودھ لے کر کسی قدر پی لیا اور پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوواپس کردیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کودیا؛ انہوں نے پیالہ کوگھٹنے پررکھ کرگردش دینا شروع کیا کہ جس طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا تھا وہاں بھی منہ لگ جائے، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور عورتوں کوبھی دو؛ لیکن سب نے جواب دیا کہ ہم کواس وقت خواہش نہیں ہے، ارشاد ہوا بھوک کے ساتھ جھوٹ بھی؟۔ (مسند:۶/۴۵۸) سنہ۱۵ھ میں یرموک کا واقعہ پیش آیا، اس میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے خیمہ کی چوب سے ۹/رومیوں کوقتل کیا۔ (اصابہ:۸/۱۳) وفات یرموک کے بعد مدت تک زندہ رہیں اور پھروفات پائی، وفات کا سال معلوم نہیں ہے۔ فضل وکمال حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں جن کے راوی اصحاب ذیل ہیں: محمود بن عمروانصاری، مہاجربن ابی مسلم، شہر بن حوشب، مجاہد، اسحاق بن راشد؛ لیکن ان میں سب سے زیادہ شہربن حوشب نے روایتیں کی ہیں۔ اخلاق استیعاب میں ہے: کَانَتْ مِنْ ذَوَاتِ الْعَقْلِ وَالدِّیْنِ۔ ترجمہ:یعنی وہ عقل اور دین دونوں سے متصف تھیں۔ (الإستيعاب في معرفة الأصحاب:۲/۷۶، شاملہ، موقع الوراق) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں (مسند:۶/۴۵۹) ایک مرتبہ ناقہ غضباء کی مہارتھامے تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہوئی، ان کا بیان ہے کہ وحی کا اتنا بار تھا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں اونٹنی کے ہاتھ پاؤں نہ ٹوٹ جائیں۔ (مسند:۶/۴۵۵،۴۵۸) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اکثر اوقات کاشانۂ نبوت میں حاضر ہوتیں، ایک مرتبہ بیٹھی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا، گھر میں کہرام مچ گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ واپس آئے تووہی حالت قائم تھی، فرمایا کیوں روتی ہو؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا ہماری حالت یہ ہے کہ لونڈی آٹاگوندھنے بیٹھی ہے، ہم کوسخت بھوک ہوتی ہے وہ پکاکرفارغ نہیں ہوتی کہ ہم بھوک سے بیتاب ہوجاتے ہیں؛ پھردجال کے زمانہ میں جوقحط پڑیگا اس پرکیونکر صبر کرسگیں گے (یعنی فوراً اس کے دام میں پھنس جائیں گے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن تسبیح اور تکبیر بھوک سے بچائے گی؛ پھرکہا رونے کی ضرورت نہیں؛ اگرمیں اس وقت تک زندہ رہا تومیں خود سینہ سپرہوں گا؛ ورنہ میرے بعد خدا ہرمسلمان کی حفاظت کریگا۔ (مسند:۶/۴۵۳،۴۵۴) مہمان نواز تھیں (ایک بار حضرت) شہربن حوشب آئے تو (انہو ں نے) ان کے سامنے کھانا رکھا (حضرت شہر بن حوشب نے) انکار کیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا (جس سے یہ اشارہ مقصود تھا کہ انکار مناسب نہیں ہے؛ انہو ں نے کہا: اب دوبارہ ایسی غلطی نہ کرونگا)۔ (مسند:۶/۴۵۸)