انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
اذان کے وقت استنجاء کرنا كيسا ہے؟ اگرکوئی شخص پہلے سے استنجاء کی حالت میں ہو اور اذا ن ہونے لگے تو کچھ حرج نہیں؛ البتہ اس حالت میں زبان سے اذان کا جواب نہ دے؛ اگراستنجاء کوجانے سے پہلے اذان شروع ہوگئی اور استنجاء کا شدید تقاضہ نہ ہو یا یہ اندیشہ نہ ہو کہ ازدھام کی وجہ سے تاخیر کرنے کی صورت میں نماز کی کوئی رکعت یانماز سے پہلے کی سنت فوت ہوسکتی ہے تو بہتر ہے کہ رُک کر اذان کا جواب دے، اس کے بعد استنجاء کرے، مسجدوں میں عام طور پر نمازوں کے اوقات میں اتنا ہجوم ہوجاتا ہے کہ انتظار کرنے میں جماعت فوت ہونے کا یا دوسروں کودشواری پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، ایسی صورت میں اذان کے درمیان استنجاء کرلینے میں مضائقہ نہیں؛ کیونکہ اصل میں اذن کا عملی جواب دینا واجب ہے اور وہ ہے، جماعت میں شرکت، زبان سے جواب دینا واجب نہیں۔ (کتاب الفتاویٰ:۲/۷۱،کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند)