انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حرکا حضرت حسینؓ سے ملنا کوفیوں کی آنکھوں پر پردے پڑچکے تھے اور دلوں پر مہر لگ چکی تھی، اس لئے حضرت حسینؓ اورآپ کے ساتھیوں کی ساری افہام و تفہیم رائےگاں گئی،کسی پر کوئی اثر نہ ہوا اورامام نے زہیر بن قین کو واپس بلالیا، ان کی واپسی کے بعد کوئی وقت منتظر باقی نہ رہااور عمر بن سعد حضرت حسینؓ کی طرف بڑھا اس کی پیش قدمی کے ساتھ ہی اس گروہ اشقیا میں سے دفعۃ ایک پرستار حق نکل آیا، یہ حُر تھے عین اس وقت جب طبل جنگ پر جوب پڑنے والی تھی حر کی آنکھوں کے سامنے تاریکی کا پردہ ہٹ گیا اورحق کا جلوہ نظر آنے لگا ؛چنانچہ کوفی فوج کا ساتھ چھوڑ کر حضرت حسینؓ کی فوج میں چلے آئے اور عرض کیا،میری جانب سے جو کچھ گستاخیاں اوربے عنوانیاں ہوچکیں وہ ہوچکیں اب اپنی جان غمگساری کے لئے پیش کرتا ہوں، امید ہے ابھی درتوبہ باز ہوگا ،حضرت حسینؓ نے فرمایا تمہاری توبہ قبول ہوگی ،تمہیں بشارت ہوکہ تم دنیا اورآخرت دونوں میں"حُر"آزاد ہو۔