انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** شرط کا اضافہ کبھی ایسابھی ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتھاد سے مطلق ایک چیز کا حکم دیا، لیکن خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس میں شرط کا اضافہ کیا گیا، جیساکہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر میں میدانِ جہاد میں قتل کردیا جاؤں تو میرے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ کے راستہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم میدان میں جمے رہے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید وابستہ کئے ہوئے رہے، پشت پھیرکر بھاگنے والے نہ ہوئے تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہارے سارے گناہوں کو معاف فرمادے گا، پھر جب وہ صاحب اپنا جواب سن کر کچھ دورچلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آوازدیکر بلایا اور سوال دوبارہ ذکر کرنے کوکہا؛ انہوں نے اپنا سوال دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناوہی جواب سنایا، لیکن آخرمیں فرمایا کہ سارے گناہ معاف تو ہوجائیں گے لیکن قرض لیکر اس کو واپس نہ کرنے کا گناہ معاف نہیں ہوگا، ابھی ابھی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ (جامع الاصول، حدیث نمبر:۷۲۱۸) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنا جواب اپنے اجتھاد سے دیا تھا، اس میں مزید ایک شرط (دین) کا اضافہ بذریعہ وحی کی گئی۔ کیونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے پیغام کوہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا کرتے تھے۔