انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا نام ونسب ہند نام، قبیلہ قریش سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس ابن عبدمناف، ہند کا باپ قریش کا سب سے معزز رئیس تھا۔ نکاح فاکہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح ہوا؛ لیکن پھرکسی وجہ سے جھگڑا ہوگیا توابوسفیان ابن حرب کے عقد میں آئی جوقبیلہ امیہ کے مشہور سردار تھے۔ عام حالات عتبہ، ابوسفیان اور ہند تینوں کواسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیرمعمولی ترقی کونہایت رشک سے دیکھتے تھے اور حتی الامکان اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے، ابوجہل ان سب کا سردار تھا؛ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جواسلام اور کفر کا پہلا معرکہ تھا، قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بھی قتل ہوگئے توابوسفیان بن حرب نے جوعتبہ کے داماد تھے اس کی جگہ لی اور ابوجہل کی طرح مکہ میں ان کی سیادت مسلم ہوگئی؛ چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے ابوسفیان سب میں پیش پیش تھے، غزوہ احد ان ہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا،اس موقع پران کے ساتھ ان کی بیوی ہند بھی آئی تھیں جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگ دلی اور خونخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا، جس کے تخیل سے بھی جسم لرزاٹھتا ہے، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے؛ انہوں نے عتبہ کوقتل کیا تھا، ہند ان کی فکر میں تھیں؛ چنانچہ انہوں نے وحشی کوجوجبیربن مطعم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل پرآمادہ کیا تھا (یہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے قبل ازاسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگذاری کے صلہ میں وہ آزاد کردیئے جائیں گے؛ چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جب ان کے برابر ائے تووحشی نے حربہ پھینک کرمارا جوناف میں لگا اور پار ہوگیا، حضرت حمزہ رضی اللہ نے ان پرحملہ کرنا چاہا؛ لیکن لڑکھڑا کرگرپڑے اور روح پرواز کرگئی۔ خاتونانِ قریش نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھی بدلہ لیا تھا، ان کے ناک کان کاٹ لیے، ہند نے ان سے پھولوں کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش پرگئیں اور ان کا پیٹ چاک کرکے کلیجہ نکالا اور چباگئیں؛ لیکن گلے سے اُترنہ سکا، اس لیے اُگل دینا پڑا (حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور ہند کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے؟ لیکن ایک اور چیز تھی جوایسے نازک موقعوں پربھی جبینِ رحمت کوشکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی۔ اسلام چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے تومستوارات میں ہند بھی آئیں، شریف عورتیں عموماً نقاب پہنتی تھیں، ہند رضی اللہ عنہا بھی نقاب پہن کرآئیں، جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئی اُن کوپہچاننے نہ پائے، بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جوحسب ذیل ہیں: ہند : یارسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں؟۔ رسول اللہﷺ: خدا کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرنا۔ ہند :یہ اقرار آپ نے مردوں سے تونہیں لیا؟ لیکن بہرحال ہم کومنظور ہے۔ رسول اللہ ﷺ: چوری نہ کرنا۔ ہند : میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یانہیں؟۔ رسول اللہﷺ: اولاد کوقتل نہ کرنا۔ ہند : ربيناهُمْ صِغَاراً وَقَتَلْتهُمْ كِبَاراً فَأَنْتم وَهُمْ أَعْلَم (التحریروالتنویر:۲۸/۲۵۰، شاملہ،موقع مكتبة المدينة الرقمية) ہم نے تو اپنے بچوں کوپالا تھا بڑے ہوئے توجنگ بدر میں آپ نے اُن کومارڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں۔ (اس دیدہ دلیری کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند سے درگذر فرمایا (ہند کے قلب پراس کا بہت اثر ہوا) اور اُن کے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں؛ انہوں نے کہا:یارسول اللہ!اس سے پہلے آپ کے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبغوض خیمہ نہ تھا؛ لیکن اب آپ کے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے۔ (بخاری) حضرت ہند رضی اللہ عنہا مسلمان ہوکر گھر گئیں تواب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھرجاکر بت توڑڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے۔ (اصابہ:۸/۲۰۶) اسدالغابہ میں ان کے حسنِ اسلام کے متعلق لکھا ہے کہ: أُسَلمَت يَوْم الْفَتْحِ وَحَسُنَ إِسْلَامِهَا۔ (اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق) غزوات فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کوعلانیہ غلبہ حاصل ہوگیا تھا اور اس لیے عورتوں کوغزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی؛ تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں روم وفارس کی مہم پیش آئی توبعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کوبھی تیغ وخنجر سے کام لینا پڑا؛ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہندرضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔ وفات حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا، اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ ان کی وفات حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے؛ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں وفات پائی) توکسی نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ عنہا کا نکاح کردو؛ انہوں نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ اب ان کونکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔ (اصابہ:۸/۲۰۶) اولاد اولاد میں حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہیں۔ اخلاق حضرت ہند رضی اللہ عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جوایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہوسکتے ہیں، صاحب اسدالغابہ نے لکھا ہے: وَكَانَتْ إِمْرَأَةٌ لَهَا نَفْسٌ وَأَنَفَةٌ، وَرَأي وَعَقل۔ (اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق) ترجمہ: ان میں عزتِ نفس، غیرت رائے وتدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی۔ فیاض تھیں، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ان کوان کے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے، اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں توانہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگران سے چھپاکرلوں توجائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔ (صحیح بخاری)