انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت مجذر بنؓ زیاد نام ونسب عبداللہ نام، مجذرلقب، قبیلۂ بلی سے ہیں سلسلۂ نسب یہ ہے:مجذر بن زیاد بن عمرو بن اخرم بن عمرو بن عمارہ بن مالک بن عمرو بن تیثرہ بن شنو بن قشر بن تیمی بن عود مناہ بن باح بن تمیم بن اراسہ بن عامر بن عبیلہ بن غیل بن قرآن بن بلی اسلام غالباً ہجرت کے بعد اسلام لائے۔ غزوات غزوۂ بدر میں شرکت کی ابو التجری مکہ میں ایک نہایت رحمدل اورنیک نفس شخص تھا، قیام مکہ کے زمانہ میں آنحضرتﷺ کو قریش کےہاتھوں جو تکلیفیں پہونچتیں تو وہ آنحضرتﷺ کی طرف سے سینہ سپر ہوتا، بنو ہاشم کے مقاطعہ کا جو عہد نامہ لکھ کر کعبہ میں آویزاں کیا گیا تھا،اس کو اتروانے میں ابو البحتری کا خاص حصہ تھا، اس بناء پر آنحضرتﷺ نے غزوہ بدر میں صحابہ کو تاکید کردی تھی کہ اس کو پانا تو قتل نہ کرنا، حضرت مجذرؓ میدان میں آئے تو اس سے سامنا ہوگیا، اونٹ پر سوار تھا، پیچھے ایک دوسرا شخص بھی بیٹھا تھا جو اس کے مال و متاع کا نگران تھا، مجذرؓ نے کہا کہ تمہارے قتل کی رسول اللہ ﷺ نے ممانعت کی ہے؛ لیکن دوسرے شخص کے لئے کوئی ہدایت نہیں فرمائی ہے اس لئے اس کو تو کسی طرح نہ چھوڑونگا، ابو البحتری بولا یہ تو میرے لئے بڑے شرم کی بات ہوگی کہ اس کو تو قتل کرادوں اورخود زندہ رہوں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، قریش کی عورتیں طعنہ دیں گی کہ جینے کی بڑی ہوس تھی، ساتھی کو قتل کرادیا،اورخود نہ مرگیا، غرض اونٹ سے اترا اورداد شجاعت دیتے ہوئے جان دی، حضرت مجذرؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئے اور قسم کھا کر کہا کہ میں اس کو لانا چاہتا تھا، لیکن وہ لڑائی کے سوا کسی چیز پر راضی نہ ہوا۔ وفات بدر کے بعد احد میں شریک ہوئے، اورجام شہادت نوش فرمایا،ایام جاہلیت میں اُنہوں نے سوید بن صامت کو قتل کیا تھا، جس سے جنگ بعاث کی نوبت آئی تھی،فریقین کے مسلمان ہوجانے کے بعد اگرچہ معاملہ رفت وگذشت ہوگیا تھا، لیکن سوید کے بیٹے حارث کے دل میں مسلمان ہونے کے بعد ان کی طرف سے غبار تھا، اس نے موقع پاکر ان کو اپنے باپ کے عوض قتل کردیا اورمرتد ہوکر مکہ چلا گیا،۸ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو دوبارہ مسلمان ہوکر آنحضرتﷺ کے پاس آیا، آنحضرتﷺ نے مجذر کے عوض اس کے قتل کا حکم دیا۔ (اصابہ:۴/۴۳،اسد الغابہ:۴/۳۰۲،استیعاب:۱/۲۹۰)