انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حیات طیبہ۶۲۱ء بیعت عقبی اولی گذشتہ موسم حج میں یثرب کے چھ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور حضورﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی قوم میں جاکر اسلام کی تبلیغ کریں گے ، جب یہ لوگ اسلام قبول کرکے یثرب لوٹے تو ہر گلی کوچہ میں آنحضرتﷺ کا تذکرہ ہونے لگا، اگلا حج کا موسم آیا تو بارہ اشخاص نے منیٰ میں عقبہ کے مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کی ، ان میں سے پانچ تو اُنہیں چھ میں سے تھے جو سال گذشتہ حضور ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرچکے تھے البتہ جابر بن عبداللہ بن رُیاب کسی وجہ سے اس دفعہ شریک نہ ہوسکے تھے نئے سات افراد یہ تھے، ۱، حضرت ذکوانؓبن عبد قیس(خزرج) خزرج کی شاخ بنی زریق سے تھے ، بیعت کے بعد مکہ میں رہ گئے اور حضورﷺ کے حکم سے ہجرت کے بعد مدینہ آئے، ۲، حضرت عبادہ ؓبن صامت (خزرج) بنی عوف بن خزرج سے تھے، ۳، حضرت ابو عبدالرحمٰنؓ یزید بن ثعلبہ(خزرج) بنی بلی سے تعلق تھا اور بنی خزرج کے حلیف تھے، ۴، حضرت عباسؓ بن عبادہ بن نضلہ(خزرج) بنی سالم بن عوف بن خزرج سے تعلق تھا، ۵ ، حضرت معاذؓ بن الحارث(خزرج) قبیلہ بنی نجار سے تھے، ۶- حضرت ابو الہشیمؓ مالک بن التیہا ن(اوس) قبیلہ اوس کی شاخ بنی عبدالاشہل سے تھے، ۷، حضرت عویمؓ بن ساعدہ (اوس) قبیلہ اوس کی شاخ عمرو بن عوف سے تعلق تھا، ان نئے افراد نے حضورﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ان سے جو بیعت لی وہ بیعت تو بہ یا بیعت ا لنساء کے نام سے مشہور ہے اس لئے کہ بہت بعد میں سورۂ ممتحنہ کی آیت ۱۲ میں مسلمان عورتوں سے بیعت لینے کے لئے جو الفاظ نازل ہوئے وہ اس بیعت سے ملتے جلتے تھے، بیعت کے الفاظ یہ تھے: ۱، خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے، ۲، کسی کا مال نہ چرائیں گے، ۳، حرام کاری نہ کریں گے، ۴، اپنی اولاد کو (عرب کے رواج کے مطابق ) قتل نہ کریں گے، ۵، ہم کسی امر معروف میں آپﷺ کی نافرمانی نہ کریں گے، آپﷺ کا حکم سنیں گے اور مانیں گے خواہ ہم خوش حال ہوں یا تنگ حال ، خواہ وہ حکم ہمیں گوارا ہو یا ناگوار اور خواہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے اور ہم حکومت کے معاملہ میں اہل ِ حکومت سے نزاع نہیں کریں گے ،مسند احمد میں اضافہ ہے کہ" اگرچہ تم سمجھتے ہو کہ حکومت ہمارا حق ہے " بخاری میں اضافہ ہے کہ : اِلّایہ کہ تم کھلا کفر نہ دیکھو،یہ بیعت ، بیعت عقبہ اولیٰ کہلاتی ہے۔