انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** کنکریوں کا تسبیح کرنا بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت ابوذرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ میں آنحضورﷺ کے پاس تنہائی کے وقتوں میں جایا کرتی تھا ایک دن آپ کو اکیلا پاکر گیا اور آپ کی خدمت میں بیٹھ گیا اس کے بعد ابوبکر صدیق آئے اور سلام کرکے آنحضورﷺ کے دائیں جانب بیٹھ گئے ،پھر عمر آئے اور سلام کرکے ابوبکر کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر عثمان آئے اور سلام کرکے حضرت عمر کے دائیں جانب بیٹھ گئے، آنحضورﷺ کے سامنے سات کنکریاں پڑی ہوئی تھیں، آپﷺنے مٹھی میں کنکریاں رکھ لیں تو وہ خدا کی تسبیح کرنے لگیں، کنکریوں کی تسبیح کی آواز جیسے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے سبھوں نے سنی پھر ان کنکریوں کو آپ نے جب رکھ دیا تو خاموش ہوگئیں، اس کے بعد کنکریاں اٹھاکرحضرت ابوبکر کے ہاتھ میں دیں تو پھر تسبیح پڑھنے لگیں اور شہد کی مکھی کی طرح آوازآنے لگی، حضرت ابوبکر نے رکھ دیں تو چپ ہوگئیں ،پھر حضرت عمر کے ہاتھ میں دیں تو اسی طرح آواز سےتسبیح پڑھنے لگیں،اسی طرح حضرت عثمان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں اس کے بعد آنحضورﷺ نے فرمایا کہ یہ خلافت ہے نبوت کی حافظ۔ ابوالقاسم نے اپنی تاریخ میں اس واقعہ کوحضرت انس سے روایت کیا ہے اس میں اتنے الفاظ اور زیادہ ہیں کہ اس کے بعد آنحضورﷺ نے حاضرین میں سے ہر ایک کو وہ کنکریاں دیں؛ لیکن کسی کے ہاتھ میں تسبیح نہ کی۔ بعض شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت علی موجود نہ تھے ورنہ ان کےہاتھ میں بھی کنکریاں تسبیح پڑھتیں کیونکہ آپؓ بھی نبی کریمؓﷺ کے چوتھے خلیفہ تھے۔