انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عبدالرحمن بن زبیر نام ونسب عبدالرحمان نام،باختلاف روایت پورا سلسلۂ نسب یہ ہےعبدالرحمن بن زبیر ابن باطیاء القرظی، یہود کے مشہور قبیلہ بنوقریظہ سے تھے۔ (ابن مندہ نے آپ کا سلسلہ نسب یہ لکھا ہے، عبدالرحمن بن زبیر بن یزید بن اُمیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمروبن مالک بن اوس، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوسی تھے؛ مگرحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور لکھا ہے کہ زبیر بن باطیاء توبنوقریظہ کے مشہور ومعروف لوگوں میں ہیں، یہ ہوسکتا ہے کہ قبیلہ اوس کے وہ متبنی ہوں اور اس حیثیت سے اوسی بھی مشہور ہوگئے ہوں (اصابہ:۲/۳۹۸۔ اسدالغابہ:۲/۱۸۶))، اسلام یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کب اسلام لائے، کتب احادیث میں آپ کا یہ واقعہ درج ہے: حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تمیمہ کوطلاق دے دی تھی جن سے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی؛ مگرحضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی کچھ طبعی قوت کی کمزوری کی وجہ سے ان سے نباہ نہ ہوسکا، تمیمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور علیحدگی کی درخواست کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ باتیں دریافت کیں، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ حلالہ کی شرط جب تک پوری نہ ہوجائے گی، اس وقت تک تم کوعلیحدگی کا اختیار نہیں ہے، اس کے کچھ روز بعد پھروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں؛ مگرآپ نے پھربھی علیحدگی کی اجازت نہیں دی، پورا واقعہ حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں آچکا ہے۔ وفات آپ کی وفات کی اگرچہ کوئی تصریح نہیں ملتی؛ مگرحضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کے حالات میں گذر چکا ہےکہ تمیمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک چاہتی رہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے علیحدگی ہوجائے، اس سے قیاس ہوتا ہے کہ غالباً حضرت عبدالرحمن عہد فاروقی تک زندہ رہے، واللہ اعلم۔ اس آیت کا شانِ نزول آپ ہی کے نکاح کا واقعہ ہے: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ (البقرۃ:۲۳۰) ترجمہ: پس جب تک دوسرا شوہر نکاح نہ کرلے، دوسرا نکاح جائز نہیں ہے۔