انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
تسبیح کس ہاتھ پر پڑھی جائے؟ چاہے فجر وعصر کے بعد تسبیح پڑھی جائے یا کسی اور موقع پر، ان کا ایک ہی حکم ہے، دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں پر پڑھی جاسکتی ہیں، حضرت یسیرہ بنت یاسر رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے خواتین ! انگلیوں کے پوروں سے تسبیحات کو شمار کرو کہ ان سے بھی پوچھ ہوگی اور ان کو بھی گویائی عطا کی جائےگی"۔ اس ارشاد میں آپ ﷺ نے دائیں اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں کوئی فرق نہیں فرمایا ہے، البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: "آپ ﷺ وضو، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ دائیں طرف سے ابتداء کی جائے"۔ اس لئے پہلے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھیں اور پھر بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر۔ (کتاب الفتاویٰ:۳/۱۰۰،کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند۔ آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۲/۲۷۸، کتب خانہ نعیمیہ)