انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** طلاق اور خلع میں فرق warning: preg_match() [function.preg-match]: Compilation failed: regular expression is too large at offset 34224 in E:\wamp\www\Anwar-e-Islam\ast-anwar\includes\path.inc on line 251. جس طرح مرد کو طلاق دیکر عورت سے اپنا رشتہ نکاح ختم کرلینے کی اجازت ہے اسی طرح عورت کو خلع کے ذریعہ مرد سے پیچھا چھڑانے کی اجازت شریعت نے دی ہے،طلاق اورخلع میں فرق یہ ہے کہ طلاق بغیر کسی معاوضہ کےہوتا ہے اور خلع میں عورت کو کچھ دینا پڑتا ہے۔ شریعت میں یہ بات مطلوب ہے کہ رشتۂ نکاح ایک دفعہ قائم ہوجانے کے بعد پھر اسے توڑا نہ جائے،اس لیے طلاق کی طرح خلع کو بھی پسند نہیں کیا گیا ہے اسی وجہ سے جس طرح مرد کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ طلاق اور تفریق کا اختیار بالکل مجبوری کی حالت میں استعمال کرے اسی طرح عورت کو بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ یہ قدم اس کو اسی وقت اٹھانا چاہیے جب کہ واقعۃ اس کی کوئی دینی ،اخلاقی یا معاشی حق تلفی ہورہی ہو یا اس پر کوئی ناقابل برداشت معاشرتی ظلم ہورہا ہو یا وہ اپنے جنسی جذبات کی تسکین نہ ہونے کی بنا پر سخت ذہنی کوفت میں ہو۔ حوالہ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ(البقرة:۲۲۹) عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ (ترمذی بَاب مَا جَاءَ فِی الْمُخْتَلِعَاتِ،حدیث نمبر:۱۱۰۷) بند