انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عیسائیوں سے جھڑپیں آئے دن اس بغاوت وسرکشی اور ہنگامہ آرائی کو دیکھ کر اور باغیان طلیطلہ کی اس سزا دہی سے فارغ ہوکر سلطان حکم نے عیسائیوں کے خلاف جو شمالی اندلس پر قابض اور دامن جبل البرتات پر برشلونہ تک متصرف ہوچکے تھے معمولی فوجی دستے بھیجے ،لیکن پوری طاقت سے اس طرف متوجہ ہونا مناسب نہ سمجھا ،نتیجہ یہ ہوا کہ شمال میں لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا کبھی مسلمان عیسائیوں کو شکست دیتے اور کبھی خود ان سے شکست کھاجاتے ،سات آٹھ برس تک یہی سلسلہ جاری رہا ،چونکہ مسلمانوں کی پوری اور بڑی طاقت عیسائیوں کے مقابلہ پر نہیں بھیجی گئی تھی بلکہ صرف عیسائیوں کی پیش رفت کو روکنا مدنظر تھا لہذا ان معرکہ آرائیوں کا نتیجہ عیسائیوں کے حق میں بہت ہی مفید ثابت ہوا ان کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب جاتا رہا ،عیسائیوں کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ مسلسل مصروف جنگ رہ کر لڑائیوں میں خوب مشاق اور چست ہوگئے دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ سلطان حکم کے فوجی دستوں نے عیسائیوں کی ریاست گاتھک مارچ ریاست ایسٹریاس اور سرکشان جلیقیہ کو نہایت شوق وتن دہی کے ساتھ فوجی مشق کرائی اور ان کو میدان جنگ میں لڑنے کی تعلیم دے کر زبردستی سپاہی بنادیا مگر سلطان حکم اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار بھی نہیں کرسکتا تھا ؛کیونکہ اس کو باشندگان اندلس کی نسبت بدظنی پیدا ہوگئی تھی۔