انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عمرؓ کی حالت حضرت عمر فاروقؓ کے بھی ہوش وحواس بجا نہ رہے،وہ اپنی تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اوربلند آواز سے کہنے لگے:اِنَّ رِجَالاً مِّنْ الْمُنَافِقِیْنَ زَعَمُوْا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَاَنَّہُ ذَھَبَ اِلٰی رَبِّہ کَمَا ذَھَبَ مُوْسٰی وَلَیَرْجِعَنَّ فَیَقْطَعْنَ اَیْدِیَ رِجَالٍ وَاَرَجُلَھُمْ (منافقوں کے چند لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے ،حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے،وہ اپنے رب کے پاس اس طرح گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے وہ ضرور واپس آئیں گے اور لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے)حضرت عمر فاروقؓ جوش اورغصہ کی حالت میں اسی قسم کی باتیں کہہ رہے تھے اورکسی کی مجال نہ تھی کہ اُن سے یہ کہتا کہ تم اپنی تلوار نیام میں کرلو،رسول اللہ کا انتقال ہوگیا ہے،اتنے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ آپہنچے اورسیدھے حجرہ مبارک میں گئے،حضرت عائشہؓ کی گود سے سرمبارک لے کر اوربغور دیکھ کر کہا ،میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں،بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس موت کا ذائقہ چکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر فرمایا تھا اور اب ہرگز اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نہ آئے گی، پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے باہر آئے۔