انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** تقدیر کی حقیقت نصوص شرعیہ میں اس کے لیے دو لفظ اختیار کیے گئے ہیں (۱)قدر جس کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں۔ (۲)قضا جس کے معنی فیصلہ کرنے کے ہیں جیسے: "اِنَّا کُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ"۔ (القمر:۴۹) اورہم نے ہرچیز کو اندازہ سے پیدا کیا۔ (ترجمہ تھانویؒ) اور فرمایا: " ہُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا"۔ (الانعام:۲) صرف یہ دولفظ ہی اپنی جگہ اس عقیدہ کی اسلامی حقیقت کو پوری طرح واضح کردیتے ہیں،اصل بتلانا یہ ہے کہ کائنات کی پیدائش سے پہلے،کائنات کی ہر چیز کے متعلق اللہ تعالی نے اپنے اندازہ اورتقدیر سے ہر ایک کا فیصلہ فرمادیا اورمتعین کردیا ہے،اسی کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے،اس میں خدا کے حکم کے بغیر ایک ذرہ کا بھی تغیر (تبدیلی) نہیں ہوسکتا۔ آسمان کو جس طرح بنایا،آفتاب کو جس طرح روشن کیا،چاند کے متعلق جو اصول مقرر فرمادیا،ستاروں کے نکلنے اورڈوبنے کے جو احکام دیدئیے موت وحیات، فنا وبقا،اورعروج وزوال غرض کائنات کی ہر شق اورہر پہلو کے متعلق جو اصول متعین فرمادیے انہی پر وہ چل رہی ہے۔ قرآن پاک میں کائنات کے بہت سارے حالات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں: "وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّہَا، ذٰلِکَ تَــقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِــیْمِo وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِo لَاالشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَاالَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ، وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ"۔ (یٰسٰن:۳۸۔۴۰) اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست علم والا ہےاور چاند کے لیے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ،نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کوجا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں ۔ (ترجمہ تھانویؒ) یہ تو آسمان کی بات تھی زمین کے متعلق فرمایا: "وَقَدَّرَ فِیْہَآ اَقْوَاتَہَا"۔ (فصلت:۱۰) اور اس میں اس کی غذائیں تجویز کردیں۔ (ترجمہ تھانویؒ) اس سے آگے بڑھ کر دیکھئے کہ دنیا کی ہر چیز میں اس نے ایک اندازہ مقرر کردیا: "قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا"۔ (الطلاق:۳) اللہ تعالی نے ہر شئی کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ ( ترجمہ تھانویؒ) موت وحیات بھی اسی کے اندازہ کے مطابق ہے فرمایا: "نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ"۔ (الواقعہ:۶۰) اورہم نے تمہارے درمیان میں موت کو ٹہرارکھا ہے۔ (ترجمہ تھانویؒ) ہرچیز میں اللہ تعالی نے جو اندازہ مقرر کردیا ہے وہی قانون قدرت ہے اوراس پر دنیاچل رہی ہے اسی طرح اللہ تعالی نے کائنات کے ہرحصے اورہر پہلو کے متعلق اپنے احکام متعین فرمادیے ہیں، انسانوں کی ترقی وزوال،موت وحیات، بیماری وصحت،دولت وافلاس،آرام وتکلیف وغیرہ ہرچیز کے اصول وقواعد مقرر فرمادیئے ہیں: "مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ "۔ (التغابن:۱۱) کوئی مصیبت بدوں خدا کے حکم کے نہیں آتی۔ (ترجمہ تھانویؒ)