انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** کفار سے اہل اسلام کے نکاح کی ممانعت اس معاہدہ کے بعد ایک مومنہ اُم کلثوم ؓ بنت عقبہ بن معیط نے مدینہ ہجرت کی، ان کے دو بھائی عمارہ اور ولید مدینہ آئے اورمعاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ، اس مسٔلہ پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ معاہدہ مردوں کے بارے میں ہے عورتوں پر اس کااطلاق نہیں ہوتا ،یہ کہہ کر انھیں واپس کر دیا ، اس پر سورۂ ممتحنہ کی دسویں آیت نازل ہوئی: " ائے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کی آزمائش کر لو، در اصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ ہی ہے ؛لیکن اگر وہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انھیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو یہ ان کے لئے حلال نہیں اورنہ وہ ان کے لئے حلال ہیں، اورجو خرچ ان کافروں کاہوا وہ انھیں ادا کر دو ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، کافر عورتوں سے تعلقات باقی مت رکھو اورجو کچھ تم نے خرچ کیا ہو مانگ ہو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وہ بھی مانگ لیں،یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے ، اللہ بڑا علم اور حکمت والا ہے " (سورۂ ممتحنہ : ۱۰ ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں جن لوگوں نے اپنی کافر بیویوں کو طلاق دی ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جنھوں نے اپنی دو کافر بیویوں قریبہ بنت ابو امیہ بن مغیرہ اور اُم کلثوم بنت جروں کو طلاق دی ،