انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** دولت سلجوقیہ سلجوقیوں کی حکومت سنہ۴۳۰ھ سے سنہ۷۰۰ھ تک کم وبیش ڈھائی سوسال قائم رہی، ابتدائی زمانہ ان کا برا شاندان تھا، آخر میں ان کے بہت سے ٹکڑے ہوگئے اور شروع ہی سے ان کے کئی طبقات قائم ہوچکے تھے، ان کا سب سے بڑا سلسلہ وہ تھا جس میں الپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی جیسے مشہور آفاق سلاطین ہوئے، ان کوسلاجقہ ایران کہتے ہیں، ان کا کسی قدر حال اوپر بیان بھی ہوچکا ہے اور آئندہ مفصل بیان کیا جائے گا، ان شائ اللہ تعالیٰ، ان کے علاوہ سلاجقہ عراق، سلاجقہ شام، سلاجقہ روم وغیرہ بھی مشہور ہیں، ان سب خاندانوں کی تاریخ دلچسپی سے خالی نہیں؛ پھران سلجوقیوں کے غلاموں اور اتابکوں کی سلطنتیں قائم ہوئیں، وہ بھی بہت مشہور اور اسلامی تاریخ کی زینت کہی جاسکتی ہیں، سلجوقیوں کا ظہور ایسے وقت میں ہوا جب کہ دیلمیوں کی چیرہ دستی نے خلافت بغداد کوسخت بے عمت اور کمزور کردیا تھا، سلطنت اسلامیہ کے لوگوں نے تکے بوٹی کرلیے تھے اور جدا جدا خودمختار ریاستیں اور بڑی بڑی بادشاہتیں قائم ہوچکی تھیں، جیسا کہ اسی فصل میں اوپر بیان ہوتا چلا آتا ہے، سلجوقیوں نے خلافتِ عباسیہ کے مٹے ہوئے اقتدار کوپھرچمکایا اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خاندانوں کوحکومت وفرماں روائی کی کرسی سے جدا کرکے ایک عظیم الشان اور طاقتور سلطنت میں خلیفہ کی بزرگی اور وقار کوقائم کیا؛ مگرچونکہ سلجوقیوں کی طاقت تمام ترفوجی اور جنگی اجزا سے مرکب تھی اور سپہ سالار ان فوج ہی کوانہوں نے ملکی انتظام اور ملک داری کا کام سپرد کردیا تھا؛ لہٰذا چند روز کے بعد اس طاقت کا شیرازہ بکھر گیا اور تمام سلجوقی سردار الگ الگ صوبوں اور ولایتوں پر خودمختارانہ قابض ہوکر اسی گزشتہ طائف الملوکی کوپھرواپس لانے کا موجب ہوئے، سلجوقی لوگ نومسلم تھے؛ مگران میں خلوص کوٹ کوٹ کربھرا ہوا تھا، وہ علوی سازشوں، سبائی ریشہ دوانیوں سے بالکل پاک تھے۔ انھوں نے دینِ اسلام کی خدمت کے مواقع خوب پائے، جہاں تک ان کے امکان میں تھا؛ انھوں نے دینی علوم اور نیک لوگوں کی خوب خدمتیں کیں، وہ خلفائے عباسیہ کی تکریم محض اس لیے کرتے تھے کہ ان کوپرانی اسلامی روایات کے مطابق مستحق تکریم جانتے تھے؛ لیکن وہ عباسیوں، امویوں، علویوں کی رقابتوں سے مطلق متاثر نہیں ہوئے، نہ ان کوکسی ایک فریق سے عداوت تھی نہ دوسرے سے بے جامحبت، وہ سیدھے سادھے اور سچے پکے مسلمان تھے؛ انھوں نے عیسائیوں کے خوب مقابلے کیے اور ان کے دلوں پرمسلمانوں کی شمشیر خار اشگاف کی دہشت وہیبت پھرقائم کردی اور عیسائیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کوایسا دھکا دیا کہ وہ دور تک پیچھے ہٹ گیا، سلجوقیوں ہی کی حکومت کا نتیجہ تھا کہ خلفاء عباسیہ کی حکومت صوبہ عراق پرآخر تک قائم رہی، ان کے زوال کا سبب وہی چیز تھی جوہرایک قوم کے زوال کا سبب ہوا کرتی ہے، یعنی آپس کی نااتفاقی اور ایک دوسرے سے دست وگریبان ہونا، سلجوقیوں کی طاقت جیسا کہ بیان ہوا، ایک جنگی طاقت تھی، فوج جس پراس طاقت کا دارومدار تھا، اس کے افسرترکی غلام ہوتے تھے، جودشت تیچاق سے منگواکر خریدے جاتے تھے، ان زرخرید غلاموں پرسلاطین سلجوقیہ کا سب سے زیادہ اعتماد تھا، ان کی وفاداری میں ان کومطلق شبہ نہ تھا؛ اسی لیے فوجوں کی افسری ان غلاموں کودی جاتی اور انہیں کوصوبوں اور ولایتوں کی حکومت سپرد ہوتی، یہ غلام شائستہ ہوکر جب سرداری کے مرتبے پرپہنچتے توبڑے وفادار اور بہادر ثابت ہوتے تھے، سلاطین سلجوقیہ اپنے نوعمر اور کم سن شہزادوں کی اتالیقی پرانہیں مملوک سرداروں کومامور کرتے او رانہیں غلاموں کی نگرانی واتالیقی میں سلجوقی شہزادوں کی ادب آموزی ہوتی، اس لیے ان مملوکوں یعنی ترک غلاموں کواتابک (اتالیق) کے نام سے پکارنے لگے، اتابک ترکی زبان میں ایسے امیر کوکہا جاتا ہے جوباپ کا قائم مقام سمجھا جائے، یعنی اتابمعنیٰ پدر اور بک مخفف بیگ کا ہے جس کا معنیٰ سردار ہوتا ہے، جب سلاطین سلجوقیہ آپس میں لڑلڑ کرکمزور ہوگئے توان مملوکوں یعنی اتابکوں نے موقع پاکر اپنی مستقل حکومتیں جابہ جا قائم کرلیں، طغگین جوسلجوق تتش کا مملوک تھا، وہ تتش کے نوعمر بیٹے وفاق سلجوقی کا اتابق مقرر ہوا اور وفاق کے بعد تتش سلجوقی کی سلطنت کا مالک ہوگیا اور دمشق میں حکومت کرنے لگا۔ عمادالدین زنگی سلطان ملک شاہ سلجوقی کے مملوک کا بیٹا تھا، اس نے موصل اور حلب میں اتابکی سلطنت قائم کی، عراق کے سلجوقی سلطان مسعود کا ایک قیچاقی غلام تھا، اس نے آذربائیجان میں اتابکی سلطنت قائم کی، سلطان ملک شاہ سلجوقی کا شاقی انوسگین نامی ایک مملوک تھا، اس کی اولاد میں شاہان خوارزم شاہیہ تھے؛ اسی طرح سلغر ایک اتابک سردار تھا جس نے فارس میں اتابکی سلطنت قائم کی؛ غرض چھٹی صدی ہجری میں تمام سلجوقی سلطنت پرسلجوقیوں کے افسران فوج قابض ومتصرف ہوکر اپنی اپنی مستقل بادشاہتیں قائم کرچکے تھے۔