انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** تدوین وقت کا تقاضاتھا حفظ و فکر کے اس دور کے جلدی بعد ضروری تھا کہ حدیث باقاعدہ مرتب اورمدون ہوجائے اوراس تحریر و تدوین کی ابتداء خود ذات پیغمبرﷺ کے سامنے سے ہی ہو، صحابہ کے شاگرد اپنے اساتذہ سے روایت حدیث کے ساتھ ساتھ تحریر حدیث کی طرف بھی توجہ دینے لگے، یہاں تک کہ تابعین کے بعد علم حدیث باقاعدہ تر تیب کی منزل میں داخل ہوگیا، یہ وہ وقت تھا جب اسلامی تہذیب عجمی ممالک میں پھیل چکی تھی اور یہی وہ تین دور تھے جن کے بارے میں حضور اکرمﷺ نےخیراور بھلا ہونے کی شہادت دی تھی،امیر المومنین سیدنا حضرت عمرؓ (۲۳ھ) کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: "أكرموا أصحابي فإنهم خياركم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يظهر الكذب"۔ (مشکاۃ المصابیح،باب مناقب قریش وذکر،حدیث نمبر:۶۰۰۳) ترجمہ: میرے صحابہ کی عزت کرو؛ کیونکہ وہ تم میں سے بہترین ہیں پھر وہ لوگ جو انہیں ملیں؛ پھروہ لوگ جو انہیں ملیں؛ پھر جھوٹ پھیل جائے گا۔ تابعی کبیر حضرت قتادہ بن دعامہؒ (۱۱۸ھ) کا حافظہ حیرت ناک تھا، جو بات ایک مرتبہ سن لیتے ہمیشہ کے لیے یاد ہوجاتی(تفصیل کے لیے دیکھئے: تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۶۔تہذیب التہذیب:۴/۳۵۷) پھر امام زہری اورامام بخاریؒ کے حافظے تاریخ اسلام میں شہرہ آفاق ہیں،ا ن کی نظیر دنیانے کبھی نہ دیکھی تھی، نہ ان جیسا کوئی طبقہ ان کے بعد دیکھنے میں آیا، صحابہؓ، تابعین اور تبع تابعین بہترین امم تھے، ان میں خیر غالب تھی،ا ن کے بعد انشاء کذب کا دور شروع ہوا، حدیث کے آخری جملے پر غور کریں "ثم یفشو الکذب (پھر جھوٹ پھیل جائے گا) اس میں خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں جھوٹ عام ہوجائے گا۔