انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عائذ بن عمرو نام ونسب عائذ نام، ابو ہبیر کنیت، نسب نامہ یہ ہے،عائذ بن عمرو بن بلال بن عبید بن یزید بن رواحہ بن رغیبہ بن عدی بن عامر بن ثعلبہ بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن اوبن طانجہ بن الیاس بن مضر مزنی اسلام ہجرت کے ابتدائی سنون میں مشرف باسلام ہوئے،صلح حدیبیہ میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب تھے،رضوان کے شرف سے بھی مشرف ہوئے (اسد الغابہ:۳/۹۸،وبخاری کتاب المغازی باب غزوہ حدیبیہ) لیکن اس کے بعد کسی غزوہ میں ان کا پتہ نہیں چلتا۔ بصرہ کا قیام بصرہ آباد ہونے کے بعد یہاں گھر بنالیا اورگوشۂ عزلت میں زندگی بسر کرنے لگے، کہیں آتے جاتے نہ تھے (اصابہ:۴/۴۱) اوربغیر کسی مجبوری اورخاص ضرورت کے کسی سے ملتے جلتے نہ تھے ،جب عبید اللہ ابن زیاد کی سخت گیریوں سے اہل بصرہ گھبرا گئے،تو عائذ کو مجبوراً اسے یہ فرمان رسول سنانے کے لیے نکلنا پڑا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ بدترین گلہ بان وہ ہے جو گلہ کے لیے بیدرد اوردرشت ہواس لیے تم کو ان میں سے نہ ہونا چاہیے۔ (مسلم کتاب الامارۃ باب فضیلۂ الامام العادل وعقوبہ الجائز الخ) وفات یزید کے عہدِ حکومت میں بصرہ میں وفات پائی،ان کی وفات کے زمانہ میں عبید اللہ بصرہ کا گورنرتھا، دستور تھا کہ ممتاز اشخاص کی نماز جنازہ والی پڑھایا کرتے تھے، عائذ کو اس کا نماز جنازہ پڑھانا منظور نہ تھا، اس لیے وہ ایک صحابی حضرت ابو برزہؓ کو نماز پڑھانے کی وصیت کرتے گئے تھے، اس کی وفات کے بعد عبید اللہ حسب دستور نماز پڑھانے کے لیے نکلا تو راستہ میں اس کو عائذ کی وصیت معلوم ہوئی،اس لیے کچھ دور جنازہ کی مشایعت کرکے لوٹ گیا۔ (ابن سعد،جلد۷،قاول:۲۰) فضل وکمال عائذ آنحضرتﷺ کے ممتاز صحابہ میں تھے، علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں :کان من صالحی الصحابہ (استیعاب:۲/۵۲۰) ان سے سات حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے ایک متفق علیہ ہے ان کے رواۃ میں معاویہ ابن قرہ ،ابو عمران جونی،عامر الاحول،ابو حمزہ ضبعی، حشرج وغیرہ قابل ذکر ہیں ان کے معاصرین ان کے مذہبی معلومات سے استفادہ کرتے تھے ،ایک مرتبہ ابو حمزہ کو وتر کے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے عائذ سے سوال کیا عائذ نے ان کے سوال کا تشفی بخش جواب دیا۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ حدیبیہ)