انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** زکوۃ کی ادائیگی کب واجب ہوگی؟ warning: preg_match() [function.preg-match]: Compilation failed: regular expression is too large at offset 34224 in E:\wamp\www\Anwar-e-Islam\ast-anwar\includes\path.inc on line 251. مسئلہ: زکوۃکی ادائیگی کے واجب ہونے کے لئے نصاب پر قمری سال کا گذرنا شرط ہے۔ نصاب پر سال گزرنے کا مطلب نصاب پر سال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ سال کے دو طرف (سال کے شروع اور سال کے اخیر) میں نصاب کامل ہو، خواہ درمیان میں کامل رہے یا نہ رہے۔ مسئلہ:اگر سال کے شروع میں کامل نصاب ہو اسی طرح سال کے گذرنے تک نصاب کامل رہے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔(بشرطیکہ درمیان سال میں کم ہونے والی مقدار نصاب زکوٰۃ سے کم نہ ہوئی ہو)۔ حوالہ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ (ابن ماجه بَاب مَنْ اسْتَفَادَ مَالًا ۱۷۸۲) بند مسئلہ: اگر سال کے شروع میں نصاب کامل ہو، پھر سال کے درمیان کم ہوجائے؛لیکن نصاب سے کم نہ ہو، پھر سال کے اخیر میں نصاب کامل ہو تو اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ حوالہ عنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ (ابن ماجه بَاب مَنْ اسْتَفَادَ مَالًا ۱۷۸۲) بند مسئلہ: جو شخص سال کے شروع میں نصاب کا مالک ہو پھر سال کے درمیان اسی مال کے جنس سے مال حاصل ہو جائے تو اسے اصلی مال کے ساتھ ملایا جائے گا، پھر پورے مال میں زکوٰۃ واجب ہوگی ،خواہ وہ مال، تجارت سے، ہبہ سے، میراث سے یا کسی دوسرے طریقہ سے حاصل ہوا ہو۔ حوالہ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّه قَالَ هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ (ابوداود بَاب فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ ۱۳۴۲) عن إبراهيم ، أنه قال :« إن كان لك مال تزكيه فأصبت مالا قبل أن يحول عليه الحول، فزكه معه إذا حال الحول ، فإن لم يكن لك مال ، فلا تزكه حتى يحول عليه الحول مذ يوم أصبته » (الاثار لابي يوسف باب الزكاة ۴۲۶) بند