انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** دعوت عام کا آغاز اس حکم کے نازل ہونے کے بعد آنحضرتﷺنے کوہ صفا پر چڑھ کر پکارا " یا صبا حاہ" ! " یا صبا حاہ" ( ہائے صبح کا خطرہ) یہ نعرہ شدید خطرہ کے وقت لگایا جا تا تھا، عربوں کا دستور تھا کہ وہ شب خون نہیں مارا کرتے تھے؛ بلکہ شب خون کے لئے صبح کا وقت مقرر تھا، اسی لئے رات میں ہتھیار کھول دیتے تھے،یہ نعرہ لگانے کا مطلب صبح کا حملہ سمجھا جاتا ، حضور ﷺ نے جب یہ نعرہ لگا یا تو سب لوگ جمع ہوئے ، آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے عقب سے ایک لشکر آ رہا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم کو یقین آئے گا ؟ سب نے کہا ‘ ہاں ! کیونکہ تم کو ہمیشہ سے ہم نے سچ بولتے دیکھا ہے ، پھر آپﷺ نے فرمایا! تم سب لَا اِلٰہ اِ لاَّ اللہکے قائل ہو جاؤ ورنہ تم پر شدید عذاب نازل ہوگا ،یہ سن کر سب لوگ جن میں آپﷺ کا چچا ابو لہب بھی شامل تھا سخت برہم ہوئے اور ابولہب نے یہ گستاخی کی غصہ میں آپﷺ کو مارنے کے لئے پتھراٹھایا، سب لوگ واپس ہو گئے۔ ( شبلی نعمانی سیرۃ النبی جلد اول ) ابو لہب کی بیوی ارویٰ یا حمنہ بنت حرب جو اُم جمیل کی کنیت سے مشہور تھی حضورﷺ کی تلاش میں نکلی جبکہ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ صحن کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے ؛لیکن و ہ حضور ﷺ کو نہ دیکھ سکی، اس لئے کہ حضور ﷺ کو ایک فرشتہ چھپائے ہوئے تھا، دعوتِ حق کی اس پہلی للکار نے ساری قوم کو چونکا دیا اور گلی گلی اس کا چرچا ہونے لگا،چندروز بعد قوم کو ڈرانے کےلئے سورۂ انبیاء کی آیت ۹۸ کے ذریعہ حکم نازل ہوا: ‘یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہووہ سب جہنم کا ایندھن ہے، تمہیں اسی جہنم میں جا اُترنا ہے" (سورہ انبیاء:۹۸) حضو ر ﷺ نے کوہ صفا کی چوٹی سے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اہلیان مکہ کو سنایا جس کو سن کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ،اس لئے کہ کعبہ میں موجود (۳۶۰) بت ہی ان کی معیشت اور اقتدار کا ذریعہ تھے جن کو پوجنے کے لئے سارا عرب آتا تھااورحضور ﷺکی دعوت بت پرستی سے منع کرتی تھی۔