انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عہدِعثمانی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے دورِ خلافت میں اسلامی سرحدیں دور دور تک پھیل چکی تھیں اور اسلام حدودِ عرب سے نکل کر روم وفارس اور افریقہ کے "بربری" قبائل تک پہنچ چکا تھا، ہرنئے علاقہ کے لوگ جب مسلمان ہوتے تھے تو اس علاقہ کے سب سے مشہور قاری کی قرأت کے مطابق قرآن پڑھنا سیکھتے تھے، مثلاً شام کے رہنے والے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہٗ کی قرآت کے مطابق قرآن پڑھتے تھے، کوفہ والے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کی قرأت کے مطابق قرآن پڑھتے تھے؛ اسی طرح بعض علاقہ والے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗ کی قرأت کے مطابق قرآن پڑھتے تھے اور ان حضرات کے درمیان حروف کی ادائیگی اور قرأت کے طریقوں میں اختلاف پایا جاتا تھا؛ یہاں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرب کی سہولت وآسانی کے لیے سات حروف (سات حروف کے متعلق تفصیل جاننے کے لیے دیکھئے "علوم القرآن":۹۷) پر قرآن نازل فرمایا؛ تاکہ مختلف لب ولہجوں میں قرآن کا پڑھنا ان کے لیے آسان ہوجائے اور صحابہ کرام چونکہ اس حقیقت سے واقف ہوچکے تھے اس لیے ان کے درمیان قرأتوں میں اختلاف ہونے کے باوجود وہ آپس میں ایک دوسرے کا ادب واحترام کرتے تھے؛ لیکن جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہورہے تھے وہ اس حقیقت سے واقف نہیں تھے اور ان کے لیے ساتوں حروف کو مکمل طور سے جاننا آسان بھی نہ تھا، کہ اختلاف ہونے کی صورت میں اس کے ذریعہ فیصلہ کرسکیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے اور آپس میں قرأتوں کے درمیان اختلاف دیکھتے تھے تو ایک دوسرے کی تغلیط کرتے تھے اور بسااوقات انکار تک نوبت آجاتی تھی (مناہل العرفان:۱۸۴) جیسا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کی خلافت کے زمانہ میں (مدینہ منورّہ میں) ایک معلم ایک قرأت کے مطابق قرآن پڑھتا تھا اور دوسرا معلم دوسری قرأت کے مطابق، جب بچے آپس میں ملتے تھے تو قرأت میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے اور رفتہ رفتہ اختلاف معلمین تک پہنچ جاتا تھا؛ پھران میں بھی اختلاف رونما ہوکر بسااوقات ایک دوسرے کی تکفیر تک نوبت پہنچ جاتی تھی، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے خطبہ دیا اور فرمایا: "تم میرے پاس ہوتے ہوئے اس طرح اختلاف کررہے ہو تو جو لوگ مجھ سے دور شہروں میں ہوں گے وہ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے"۔ (فتح الباری:۹//۲۲۔ الاتقان:۱/۱۳۱) حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کا یہ خیال بالکل سچ نکلا جس کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہٗ بن مالک سے اس طرح منقول ہے: کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہٗ جو اس وقت اہلِ "عراق" کے ساتھ ملکِ "شام" میں "آرمینیۃ" اور "آزربائیجان" کے محاذ پر برسرِپیکار تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے پاس آئے، ان کو لوگوں کے اختلافِ قرأت سے بہت تشویش تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہٗ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! قبل اس کے کہ یہ امت یہودونصاریٰ کی طرح اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں اختلافات کی شکار ہوجائے اس کو سنبھال لیجئے۔ (صحیح بخاری۔ فضائل القرآن، باب جمع القرآن:۲۰/۷۴۶۔ رقم:۴۹۸۷) اور فرمایا میں "آرمینیۃ" کے محاذ پر برسرپیکار تھا وہاں میں نے دیکھا کہ شام والے ابی بن کعب کی قرأت پر قرآن پڑھتے ہیں، جس کو عراق والوں نے نہیں سنا اور عراق والے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کی قرأت کے مطابق قرآن پڑھتے ہیں جس کو شام والوں نے نہیں سنا؛ پھر یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگتے ہیں۔ (فتح الباری:۹/۲۱) حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ پہلے سے اس مسئلہ میں فکرمند تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہٗ کے واقعہ نے انھیں اور زیادہ سوچنے پر مجبور کردیا؛ انھوں نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا اور فرمایا: "مجھے یہ خبر پہونچی ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میری قرأت تمہاری قرأت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر تک پہونچ سکتی ہے" صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا: میری رائے ہے کہ ہم لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردیں؛ تاکہ ان کے درمیان اختلاف نہ ہو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہٗ نے اس رائے کی تحسین فرماکر اس کی تائید فرمائی۔ (الاتقان:۱/۱۳۰، فتح الباری:۹/۲۲) اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہٗ کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ صحیفے (جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے حکم سے تیار کئے گئے) جو آپ کے پاس موجود ہے، ہمارے پاس بھیج دیں، ہم اس کی نقل کرواکر آپ کو واپس کردیں گے، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہٗ نے وہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے پاس بھیج دیئے اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے اس اہم کام کی تکمیل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جن کے بنیادی طور پر چار ارکان تھے: (۱)حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہٗ (۲)عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہٗ (۳)سعید بن العاص رضی اللہ عنہٗ (۴)عبدالرحمن رضی اللہ عنہٗ بن حارث بن ہشام، حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے ان کو اس کام پر مامور فرمایا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے صحیفوں سے قرآن مجید نقل کروا کر ایسے مصاحف تیار کرے جو سورتوں کے اعتبار سے مرتب ہو۔ (صحیح بخاری، فضائل القرآن، باب جمع القرآن:۲/۷۴۶۔ رقم:۴۹۸۷) ابتداء میں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے چار ہی حضرات کو اس کام کے لیے مامور کیا تھا؛ پھر بعد میں ضرورت پڑنے پر مزید آٹھ حضرات کو بطورِ معاون ان کے ساتھ کردیاجن میں سے بعضوں کے نام یہ ہیں: "مالک بن ابی عامر رضی اللہ عنہٗ، کثیر بن افلح رضی اللہ عنہٗ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہٗ، انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ"۔ (فتح الباری:۹/۲۲،۲۳۔ اتقان:۱/۱۳) حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے اِن چاروں میں سے آخر کے تین قریشی حضرات کو یہ بھی ہدایت فرمادی تھی کہ جب "زید رضی اللہ عنہٗ" اور تم لوگوں کے درمیان قرآن کریم کے کسی لفظ کے (لکھنے کے) بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان میں لکھو! اس لیے کہ قرآن انھیں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر:۴۹۸۷)