انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** جہنم سے خوف کا ذکر جہنم سے ڈرنے والوں کی رب سے مناجات اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ،الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَکَرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار، رَبَّنَا إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (آل عمران:۱۹۰،۱۹۲) (ترجمہ)بلاشبہ آسمانوں کے اورزمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اوردن کے آنے جانے میں دلائل (توحید کے موجود) ہیں اہل عقل(سلیم)کے(استدلال کے) لئے جن کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالی کی یاد کرتےہیں، کھڑے بھی ،بیٹھے بھی،لیٹے بھی اورآسمانون اورزمین کے پیدا ہونے میں (اپنی قوت عقلیہ سے) غور کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے اس (مخلوق) کو لایعنی پیدا نہیں کیا،ہم آپ کو (لایعنی پیدا کرنے سے)منزہ سمجھتے ہیں سو ہم کو عذاب دوزخ سے بچالیجئے اے ہمارے پروردگار بے شک آپ جس کو دوزخ میں داخل کریں اس کو واقعی رسوا ہی کردیا اور ایسے بے انصافوں کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ دوسری مناجات قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ، الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران:۱۵،۱۶) (ترجمہ) (ان لوگوں سے یہ)فرمادیجئے کیا میں تم کو ایسی چیز بتلادوں جو(بدرجہا)بہتر ہو ان(مذکورہ)چیزوں سے (سو سنو) ایسے لوگوں کے لئے جو(اللہ تعالی سے) ڈرتے ہیں، ان کے مالک(حقیقی)کے پاس ایسے باغ ہیں(یعنی بہشت)جن کی پائیں میں نہریں جاری ہیں ان(بہشتوں) میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے(اوران کے لئے) ایسی بیویاں ہیں جو(ہرطرح)صاف ستھری کی ہوئی ہیں اوران کے لئے خوشنودی ہے اللہ تعالی کی طرف سے اوراللہ تعالی خوب دیکھتے(بھالتے ہیں)بندوں (کے حال) کو(اس لئے ڈرنے والوں کو یہ نعمتیں دیں گے، آگے ان ڈرنے والوں کی بعض تفصیلی صفات ذکر کی جاتی ہیں یہ )ایسے لوگ (ہیں)جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے اورہم کو عذاب دوزخ سے بچالیجئے۔ تیسری مناجات وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ، وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا ، وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا کَانَ غَرَامًا ، إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا (الفرقان:۶۳،۶۶) (ترجمہ)اوررحمان کے(خاص) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اورجب ان سے جہالت والے لوگ(جہالت کی )بات (چیت )کرتے ہیں تو وہ رفع شر کی بات کہتے ہیں اور جو (اللہ کے ساتھ اپنا یہ طرز رکھتے ہیں کہ)راتوں کو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام(یعنی نماز)میں لگے رہتے ہیں اورجو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھئے کیونکہ اس کا عذاب پوری تباہی ہے بے شک وہ جہنم برا ٹھکانہ اوربرا مقام ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے عذاب سے ڈرنے والوں کی تعریف فرمائی وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ (الاسراء:۵۷) اوروہ خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اوراس کےعذاب سے ڈرتے ہیں۔ وَالَّذِينَ هُمْ مِنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ (المعارج:۲۷) (ترجمہ)اورجو لوگ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں عذاب خدا بے خوف ہونے کی چیز نہیں إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ (المعارج:۲۸) (ترجمہ)اورواقعی ان کے پروردگار کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں عذاب کی وعید سے ڈرنے والے کا مقام (ابراھیم:۱۴) (ترجمہ)یہ (وعدہ آباد رکھنے کا) ہر اس شخص کے لئے(عام ) ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرنے اورمیری وعید(عذاب کے وعدہ) سے ڈرے۔ عذاب خدا وندی سے خوف کا فائدہ وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ،قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ،فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ (الطور:۲۵،۲۶،۲۷) (ترجمہ)وہ(جنتی)ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر بات کریں گے(اور)یہ(بھی)کہیں گے کہ(بھائی)ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر(یعنی دنیا میں انجام کار سے) بہت ڈرا کرتے تھے سو خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا اورہم کو عذاب دوزخ سے بچالیا۔ خوف کھانے کا طریقہ ابراہیم تیمیؒ فرماتے ہیں جو آدمی غمگین نہ ہوتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اس سے خوف کرے کہ وہ دوزخیوں میں سے نہ ہو؛کیونکہ جنتی کہیں گے : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ(سورہ فاطر:۳۴) اور جو خدا سے ڈرتا نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس بات سے خوف کھائے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ دوزخیوں سے نہ ہو؛کیونکہ جنتی کہیں گے ، إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ(الطور:۲۶) بے شک ہم تو پہلے ہی سے دنیا میں (خدا سے) ڈرنے والے تھے۔ حضورﷺ کا جہنم سے اکثر پناہ طلب فرمانا نبی کریم ﷺ جہنم سے اکثر پناہ مانگتے تھے اوراس کے متعلق نماز وغیرہ میں حکم فرماتے تھے،اس کا بیان بہت سی احادیث میں آیا ہے۔ حضورﷺ کی اکثر دعاء (حدیث)حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی دعاء اکثر یہ ہوتی تھی : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۱) (ترجمہ)اے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اورہمیں جہنم کی آگ سے بچا۔ (صحیح بخاری) حضرت ابوہریرہؓ نے حضورﷺ سے یہ دعا سنی اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ (ترجمہ)اے اللہ میں آپ کے ساتھ پناہ لیتا ہوں جہنم کی گرمی سے۔ (نسائی شریف) جہنم سے وہ بچے گا جو اس سے ڈرے گا (حدیث)حضرت ابن عمرؓ نے حضورﷺ کا یہ فرمان نقل فرمایا ہے۔ إنما يدخل الجنة من يرجوها ، ويجنَّبُ النار من يخافها ، وإنما يرحمُ اللَّه من يرحم بے شک جنت میں وہ داخل ہوگا جو اس کی امید رکھے گا اورجہنم سے وہ بچے گا جو اس سے خوف کھائے گا اوربلاشبہ اللہ تعالی اس پر رحم فرمائیں گے(جو دنیا میں)رحم کرتا ہے۔ (ابونعیم) (فائدہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت کی امید اوردوزخ کا خوف دونوں مسلمان میں موجود ہوں تاکہ وہ دوزخ سے محفوظ ہوکر جنت میں جاسکے۔ حضرت عمرؓ نے جہنم سے کتنا خوف کیا حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر آسمان سے کوئی منادی کرے اے لوگو تم جنت میں داخل ہونے والے ہو سوائے ایک آدمی کے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ میں نہ ہوں۔ (ابو نعیم) حضرت عثمانؓ کے خوف کی حالت عبداللہ بن الروی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عثمان ؓ کے متعلق یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ اگر میں جنت اورجہنم کے درمیان میں ہوں اورمجھے یہ علم نہ ہو کہ ان میں سے کسی کی طرف (جانے کا) مجھے حکم دیا جائے گا تو میں اس بات کو اختیار کروں گا کہ میں راکھ ہو جاتا پہلے اس کے کہ مجھے علم ہو کہ میں کہا جاؤں گا۔ انسان کوعذاب جہنم کا خوف دلایاگیا اللہ تعالی کا ارشاد ہے ذَلِکَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا (الاسراء:۳۹) (ترجمہ) (اے پیغمبرﷺ) یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جوتمہارے پروردگار نےتم پر وحی کے ذریعےپہنچائی ہیں، اور(اےانسان) اللہ کے ساتھ کسی اور کومعبود نہ بنا ورنہ تجھےملامت کرکے ،دھکے دے کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ۔ اللہ تعالی نے فرشتوں کو بھی جہنم سے ڈرایا وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِکَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ کَذَلِکَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ (الانبیاء:۲۹) (ترجمہ)اوران میں سے جو فرشتہ (بالفرض)یوں کہے کہ(نعوذباللہ) میں علاوہ خدا کے معبود ہوں سو ہم اس کو سزائے جہنم دیں گے اورہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ (فائدہ)یہ آیت فرشتوں کے متعلق ہے جو سراپا خدا کی اطاعت کرتے ہیں ایک پل خدا کی نافرمانی نہیں کرتے خدانخواستہ اگر یہ بھی خدا کی نافرمانی کریں تو جہنم میں ڈالے جائیں اس لئے ہم جیسے گناہگاروں کو جہنم سے بچنے کی بہت فکر کرنا ضروری ہے۔ تمام انبیاء کرامﷺ کو جہنم کا خوف (حدیث)حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ سے حدیث شفاعت میں نقل کرتے ہیں کہ لوگ جب حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں شفاعت کرانے کے لئے حاضر ہوں گے تو حضرت آدمؑ فرمائیں گے آج میرا پروردگار اتنا غصہ میں ہے کہ آج سے قبل ایسے غصہ میں نہیں تھا اورآج کے بعد بھی ایسا غصہ ہر گز نہیں فرمائے گا اس نے مجھے ایک کام کا حکم فرمایا پس میں نے اس کی نافرمانی کی پس مجھے ڈرہے کہ وہ مجھے آج جہنم میں نہ پھینک دے تم کسی اورکے پاس جاؤ اوروہ اپنے نفس کی نجات کے متعلق نفسی نفسی پکاریں گے اور اسی طرح حضرت نوح ،حضرت ابراہیم ،موسیٰ اورعیسیٰ کے متعلق حدیث میں ذکر ہے کہ وہ بھی ایسا ہی جواب دیں گے۔ (ابن ابی الدنیا) سب انبیاء، صدیقین،شہداء اوراولیاء کا جہنم سے ڈرنا (حدیث)حضورﷺ نے فرمایا،انبیاءصدیقین،شہداء اورصالحین سب حضرات جہنم سے ڈرتے تھے اوراس سے لوگوں کو ڈراتے تھے۔ (بخاری شریف) (تنبیہ)بعض عارفین جو جہنم سے نہیں ڈرتے تھے اس کی وجہ اسی فصل میں حضرت ذوالنون کے فرمان کے بعد ذکر کی گئی ہے۔ جہنم کے خوف سے عبادت کرنے پر ایک بزرگ کا شرم کرنا ایک عارف کا قول ہے مجھے اللہ تعالی سے حیا آتی ہے کہ میں اس کی عبادت اس امید سے کروں کہ مجھے جنت ملے گی اس طرح میں اس برے مزدور کی طرح ہوجاؤں جس کو اجرت ملے تو کام کرے اگر نہ ملے تو کام چھوڑدے اور اس سے بھی حیا آتی ہے کہ میں اللہ تعالی کی عبادت جہنم کے خوف سے بجالاؤں اورایسے برے مزدور کی طرح ہوجاؤں جسے دھمکایا جائے تو کام کرے اگر نہ دھمکایا جائے تو کام چھوڑے ۔ (ابو نعیم) (تنبیہ)اوپر کی عبارت کا مطلب ہے کہ اگر صرف جنت کی نعمتوں کے حاصل کرنے کے لئے عبادت کی جائے یا جہنم کے عذاب سے نجات کے لئے عبادت کی جائے تو یہ بری بات ہے،عبادت کرتے وقت دونوں باتیں پیش نظر رہیں اورخدا کی رضا بھی مقصود ہو۔ صرف امید یاصرف خوف کی بناء پر خدا کی عبادت مطلوب نہیں اورایک بزرگ یہ فرماتے ہیں جس نے اللہ تعالی کی عبادت صرف امید کی بناء پر کی تو وہ مرجئی ہے(مرجئی دوسری صدی ہجری کا ایک گمراہ فرقہ ہے، جو خدا کے احکام میں یہ نظر یہ رکھتا تھا) اور جس نے صرف خوف کی بناء پر عبادت کی وہ حروری ہے(یہ بھی دوسری صدی کا ایک گمراہ فرقہ ہے)اورجس نے محض محبت کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کی تو وہ زندیق ہے(زندیق شریعت میں نہایت برے درجہ کے کافرکو کہتے ہیں) اورجس نے خوف امید اور محبت کے ساتھ خدا کی عبادت کی تو وہ موحد اورمومن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن پر خدا کی عبادت ان تینوں باتوں (خوف،امید اورمحبت) کے ساتھ واجب ہے جس نے کسی ایک بات کو چھوڑا اس نے ایمان کا ایک واجب ترک کیا، لیکن محبت خدا وندی خوف اورامید دونوں پر غالب ہونی چاہیے۔ محبت خوف سے افضل ہے حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں محبت خوف سےافضل ہے محبت اورخوف کی مقدار حضرت یحییٰ بن معاذ فرماتے ہیں خوف اتنا کافی ہے جو گناہ کرنے سے روک دے اورمحبت کی کوئی حد نہیں جتنا ممکن ہو پیدا کرے۔ خوف اورامید کو برابر کا درجہ دینے والے اولیاء کے اسماء حضرت مطرف ،امام حسن بصری، امام احمد وغیرہ خوف اورامید دونوں کو برابر کادرجہ دیتے ہیں کسی کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے۔ خوف کو امید پر ترجیح دینے والے اولیاء حضرت فضیل بن عیاض اورابو سلیمان دارانی خوف کو امید پر ترجیح دیتے ہیں۔ صرف خوف یا امید سے عبادت کرنے والا کیسا ہے اگر کوئی آدمی(دوزخ) کے خوف سے(نیک ) عمل کرے تو یہ آدمی بھی برا ہے اورجو آدمی (جنت) کی امید پر(نیک) عمل کرے تو یہ بھی برا ہے،یہ دونوں قسم کے آدمی میرے نزدیک برے ہیں۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ جس نے صرف دوزخ کے خوف کو مد نظر رکھتے ہوئے نیک عمل کئے یا صرف جنت کی امید کو مد نظر رکھتے ہوئے نیک عمل کئے تو وہ شخص برا کرتا ہے (بلکہ خوف اورامید دونوں برابر کے درجہ میں سمجھتے ہوئے عمل کرے اوریہی جنت اور دوزخ کا مطلوب ومقصود ہے) حضرت وہیب بن الورد کی تنبیہ وہیب بن الورد فرماتے ہیں تم مزدور کی طرح نہ بنو کہ اس کو کہاجائے تو یہ کام کرتو وہ کہے ٹھیک ہے ؛لیکن تم مجھے کتنی بہتر مزدوری دوگے؟ اس میں ابن الورد نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو کام میں سوائے اجرت کے کسی بات کا لحاظ نہیں کرتے۔ مذکورہ اقوال میں دوباتیں قابل لحاظ ہیں پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اس لائق ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے اوراس سے محبت رکھی جائے اس کا قرب اوروسیلہ تلاش کیا جائے قطعی نظر اس کے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ثواب بھی دیتا ہے اورعذاب بھی۔ اسی بات کی طرف اللہ تعالی نے اشارہ فرمایا ہے کہ خدا اپنے بندوں پر جن نعمتوں کا انعام فرماتے ہیں ان پر انہیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے اس بات کی طرف نبی اکرمﷺ نے اس وقت اشارہ فرمایا جب عبادت کرتے کرتے آپ کے قدم مبارک پر ورم چڑھ گیا تھا کسی نے آپ ﷺسے عرض کیا کہ آپ ﷺ یہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں اللہ تعالی نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف فرمادی ہیں، تو آپ ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا کیا میں (خدا کا) شکر گذار بندہ نہ بنوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کامل ترین خوف اورامید وہ ہے جو ذات خداوندی کے ساتھ وابستہ ہے نہ یہ کہ وہ خدا کی مخلوق جنت اورجہنم کے ساتھ وابستہ ہے اعلی ترین خوف اللہ تعالی سے بعید ہونے،خدا کے ناراض ہونے اورخدا کے دیدار سے محرومی کا خوف ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے درج ذیل آیات میں اپنے دشمنوں کے لئے ان کو جہنم میں ڈالنے کے ذکر سے پہلے اپنے دیدار سے محرومی کا ذکر فرمایا: کَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ (المطففین:۱۵،۱۶) (ترجمہ)ہرگز نہیں وہ لوگ روز قیامت اپنے رب کے سامنے پردہ میں ہوں گے پھر وہ جہنم میں ڈالدئے جائیں گے۔ جہنم کا خوف خدا کے فراق کے مقابلہ میں ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں کہ آگ کا خوف خدا کے فراق کے مقابلہ میں لامحدود سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ جیسی مناسبت رکھتا ہے،جیسا کہ بہترین امید وہ ہے جو اللہ کی ذات کا قرب،رضا،دیدار اورمشاہدہ سے متعلق ہو؛لیکن بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا ہے کہ یہ (قرب،رضا،دیدار اور مشاہدہ)جنت اوراس کی نعمتوں میں داخل نہیں ہے اورنہ(خدا تعالی سے حجاب اوردوری) جہنم یا اس کے عذاب میں داخل ہے لیکن یہ صرف مغالطہ ہے خدا کا دیداراورقرب (واقعی طور پر)جنت اور اس کی نعمتوں میں داخل ہے اورخدا سے دوری (واقعی طورپر)جہنم اوراس کے عذاب میں داخل ہے۔ بعض اولیاء کی جنت اور دوزخ سے بے نیازی کی وجہ یہاں ایک بات یہ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہنم میں عذاب کی جو اقسام تیار کر رکھی ہیں ان سے بعض اولیاء خوف کیوں نہیں کرتے اسی طرح جنت میں نعمتوں کی جتنی اقسام تیار کر رکھی ہیں ان کو طلب نہیں کرتے اورمحبت نہیں رکھتے۔ یہ بات غلط ہے کہ وہ جنت کی امید اور دوزخ کا خوف نہیں کرتے اور(یہ)بہت سے دلائل قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے نیز انسان کی اس جبلت کے بھی خلاف ہے جسے اللہ تعالی نے پیدا کیا ہے کہ وہ قابل محبت چیز سے محبت کرتا ہے اورقابل نفرت سے نفرت بلاشبہ ایسا کلام جن سے ثابت ہے وہ ان کی وجدانی اوراستغراقی کیفیت ہے جس میں ان کا ذاتی ارادہ داخل نہیں ہوتا لیکن جب ان کی توجہ استغراقی کیفیت سے بیداری کی حالت میں عود کرتی ہے تو معاملہ اس کے خلاف پاتے ہیں۔ اس بات کو ایک مثال سے بیان کیا جاتا ہے جس سے یہ معاملہ واضح ہوجائے گا، وہ یہ کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور ان کو اللہ تعالی اپنی زیارت ،مشاہدہ اوریوم المزید میں حاضری کے لئے بلائیں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انہوں نے اس سے قبل جنت میں دیکھی تھیں اور وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے جب تک کہ اللہ تعالی ان سے پردہ میں نہیں چلے جائیں گے اور جنت کی تمام نعمتوں کو(اس وقت تک) حقیر جانیں گے جب تک وہ اللہ جل شانہ کا دیدار کرتے رہیں گے،جیسا کہ احادیث یوم المزید میں وارد ہے۔ (اس کی تفصیل احقر امداد اللہ انور کی کتاب جنت کے حسین مناظر میں ملاحظہ فرمائیں) پس اگر وہ اس وقت جنت کی نعمتوں میں سے کچھ یاد کریں تو اللہ تعالی سے بے پرواہ ہوجائیں ،اسی طرح اگر اس وقت وہ جہنم کے عذاب سے خوف کھائیں تو خدا تعالی کی طرف متوجہ نہ رہیں،بس اس وقت تو ان کو اس بات کا لحاظ ہوگا کہ جس حال میں سرشار ہیں اس سے محروم نہ ہوں، جب وہ اپنی اپنی جنتوں کی طرف لوٹیں گے تو جنت کی نعمتوں سے مستفید ہوں گے؛بلکہ ان کے لئے اس یوم مزید کی وجہ سے شوق کی شدت کے ساتھ نعمتوں کا مزید اضافہ کردیا جائے گا۔ پس اسی طرح کا حال دنیا میں عارفین صادقین کا ہے جب ان کے دلوں پر احسان کے انوار جلوہ افروز ہوتے ہیں، نیز عارفین جہنم کا اس اعتبار سے لحاظ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کی صفت انتقام ،گرفت اورغضب سے پیدا شدہ ہے پس جہنم اللہ تعالی کی عظمت ،اس کے شدت عذاب،جلال، عظمت اورخوفناک صفات سے خوف کی دلیل ہے اوراللہ تعالی اپنے بندون کو اس سے ڈراتے ہیں اوراس کو محبوب رکھتے ہیں کہ اس سے جہنم کے خوف کی وجہ سے ڈریں پس جہنم سے ڈرنے والا خود اللہ تعالی سے ڈرنےوالا ہے اورجس (چیز) میں اللہ کی رضا اورمحبت ہے اس کی پیروی کرنے والا ہے،واللہ اعلم خوف کس قدر ضروری ہے اتنا خوف کرنا واجب ہے جس سے فرائض کی ادائیگی اورحرام اشیاء سے پرہیز حاصل ہو، اس درجہ سے زیادہ اتنا خوف کرنا جو نقلی عبادات پر نفوس کو اکسائے معمولی مکروہات سے روکے،فضول مباحات سے منع کرے محمود ہے، اس سے زیادہ خوف کرنا جو مرض،موت یا دائمی غم کا سبب بنے اور مطلوب اورخدا کے محبوب اعمال کے حاصل کرنے کو منقطع کردے یہ درست نہیں اورمقصود بالذات بھی نہیں۔ حضرت عطاء سلمی کے خوف کا حال اسی لئے بہت سے بزرگان دین حضرت عطاء سلمی پر ان کی شدت خوف کے باعث ڈرا کرتے تھے جس نے ان کا حفظ قرآن شدت خوف کی وجہ سے بھلادیا تھا اوروہ اس کے باعث صاحب فراش ہوگئے تھے،عذاب کا خوف اسی لئے مقصود بالذات نہیں ہے،ہاں یہ ایک قسم کا تنبیہ کا کوڑا ہے جو عبادات میں سست آدمی کو تنبیہ کرتا رہتا ہے پس اس وجہ سے دوزخ بھی خدا تعالی کی دوسری نعمتوں کی طرح ایک نعمت ہے جس سے اللہ کے بندے اللہ سے ڈرتے اورخوف کھاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالی نے سورہ رحمن میں اپنی دوسری نعمتوں کے ساتھ اسے بھی شمار فرمایاہے مؤمنون کے لئے جہنم خدا کی رحمت ہے محدث سفیان بن عینہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے آگ کو بطور رحمت پیدا فرمایا ہے تاکہ وہ اپنے بندوں کو اس سے ڈرائے اوروہ گناہوں سے باز رہیں (ابو نعیم) چنانچہ جہنم سے مقصود اصلی بھی اللہ تعالی کی اطاعت اوراس کے مرضی کے پسندیدہ کاموں پر عملدرآمد کرنا ہے اوراس کے ممنوعات اورمکروہات کا ترک کرنا ہے ۔ حضور کی کیفیت حضورﷺ نے ایک آدمی سے یہ آیت پڑھتے سنی : إِنَّ لَدَيْنَا أَنْکَالًا وَجَحِيمًا،وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا (المزمل:۱۳) تو آپ ﷺکی چیخ نکل گئی،اسی واقعہ کی ایک اورروایت میں ہے کہ یہ آیت سن کر آپ رونے لگ گئے اورآپ ﷺ پر غشی طاری ہوگئی۔ ایک صحابی کے خوف دلانے پر فرشتے روتے رہے حضورﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لائے جو آدھی رات کے وقت منادی کرتے ہوئے جہنم سے ڈرارہا تھا،تو آپ نے اس کو صبح کے وقت فرمایا،اے نوجوان تونے تو گذشتہ رات فرشتوں کی بڑی جماعت کو رلادیا ۔(کتاب النواحین امام جوزجانی) خوف کے بارے میں حضرت ابن عمر کی حالت سلیمان بن سحیم فرماتے ہیں مجھے ایسے آدمی نے خبردی ہے جس نے خود حضرت ابن عمرؓ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نماز میں جھکتے،مائل ہوتے اوردرد مند ہوتے اگر کوئی ناواقف آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اس آدمی کو جنون لاحق ہو گیا ہے(ان پر) یہ اثر جہنم کے ذکر کی وجہ سے تھا جب وہ آیت: وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَکَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ (الفرقان:۱۳) (ترجمہ)اورجب ان کفار کو دوزخ کی بہت تنگ جگہ میں بیک دیگر بندھے ہوئےپھینکا جائے گا۔ یا اس جیسی کسی دوسری آیت سے گذرتے تھے۔ (ابوعبیدہ،التخویف:۲۱) خوف کے مارے حضرت یزید بن مرثد کا روتے رہنا عبدالرحمان بن یزید بن جابر فرماتے ہیں میں نے یزید بن مرثد سے عرض کیا، کیابات ہے میں نے آپ کی آنکھ کو دیکھا ہے کہ وہ خشک نہیں ہوتی تو انہوں نے فرمایا تم اس کے متعلق کیوں پوچھتے ہو؟ میں نے کہا شاید اللہ تعالی مجھے اس سے فائدہ پہنچائے تو فرمایا اے بھائی اللہ تعالی نے مجھے ڈرایا ہے کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو وہ مجھے جہنم میں قید کردے گا، اللہ کی قسم (اگر اللہ تعالی) حمام کے علاوہ کسی جگہ بھی قید نہ کرنے کی وعید فرماتےتو بھی میری آنکھ خشک نہ ہوتی، میں نے عرض کیا نماز میں بھی آپ کی یہی حالت ہوتی ہے؟ تو انہوں نے پوچھا تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ میں نے عرض کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی اس سےبھی مجھے فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے فرمایا قسم بخدا میری یہ حالت تو اس وقت بھی ہوتی ہے جب میں اپنے اہل خانہ کے ہاں جاتا ہوں پس میرے اورمیرے ارادہ کے درمیان بھی یہ حالت طاری ہوجاتی ہے جب میرے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے اس وقت بھی میرے اورکھانے اورکھانے کے تناول کرنے کے درمیان حائل ہوجاتا ہے،حتی کہ میرے بیوی بچے بھی روپڑتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے ہوتے کہ انہیں کس شئے نے رلایا ہے اور کبھی کبھی اس پر میری بیوی ڈانٹ بھی دیتی ہے اورکہتی ہے ہائے افسوس کس شئے نے اسے طویل غم میں دنیاوی زندگی میں مبتلا کردیا میری آنکھ کبھی بھی تمہارے ساتھ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ (کتاب الزہد امام احمدؒ) حسن بصریؒ اورعمر بن عبدالعزیزؒ سے زیادہ خوف والا نہیں دیکھا یزید بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے بصری اورعمر بن عبدالعزیز سے زیادہ ڈرنے والا کوئی نہیں دیکھا گویا کہ جہنم ان کے سوا کسی کے لئے تیارہی نہیں کی گئی حسن بصری کا جہنم کے خوف سے رونا حضرت حسن بصریؒ رونے لگے تو کسی نے کہا آپ کو کس چیز نے رلایا ہے تو فرمایا مجھے ڈر ہے کہ کل کو میں جہنم میں پھینک دیا جاؤں اورمجھے (دنیا میں) اس کی پرواہ نہ ہو ۔ اہل دل عاجزی پسند ہیں حضرت حسن بصری فرماتے تھے مومنین کی قوم عاجزی اختیار کرتی ہے ؛حالانکہ اللہ تعالی نے ان کو کان ،آنکھ اوربدن دئے ہیں لیکن جاہل لوگ ان کو مریض جانتے ہیں حالانکہ وہ اہل دل لوگ ہیں کیا تجھے خبر نہیں کہ وہ قیامت کے دن کہیں گے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (ترجمہ)سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ یہ دنیا میں شدید غمگین رہتے ہیں ان کو وہ چیزیں غمگین نہیں کرتیں جو دوسرے لوگوں کو کیا کرتی ہیں،ان کو رلانے اورغمگین کرنے والا تو جہنم کا خوف ہے۔(ابن مبارک) جہنم کے خوف سے حضرت ابن حنظلہ کی کیفیت عبدالرحمان بن حارث فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن حنظلہ سے ایک روز یہ بات سنی جبکہ وہ بستر علالت پر تھے اورمیں ان کی بیمار پرسی کررہا تھا ایک آدمی نے ان کے پاس یہ آیت پڑھی : لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ (الاعراف:۴۱) (ترجمہ)ان (دوزخیوں) کے لئے آتش دوزخ کا بچھو نا ہوگا اوران کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ تو(حضرت ابن حنظلہؓ)یہ آیت سن کر روپڑے حتی کہ میں نے گمان کرلیا کہ ان کی روح پرواز کرچکی ہے پھر (اس آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا:یہ جہنمی آگ کے پاٹوں میں ہوں گے، پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے تو کسی نے کہا اے ابو عبدالرحمن بیٹھ جائیے تو فرمایا مجھے جہنم کے ذکر نے بیٹھنے سے روک دیا ہے،مجھے معلوم نہیں شاید میں بھی ان میں سے ایک ہوں؟ (ابن ابی الدنیا) ایک اللہ والے کا خوف کے مارے جان دینا عبدالرحمان بن مصعب کا بیان ہے کہ ایک آدمی ایک روز دریائے فرات کے کنارے کھڑا تھا اس نے ایک آدمی سے یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنی: (الزخرف:۷۴) (ترجمہ)بلاشبہ مجرمین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تو وہ لڑکھڑا یا،پھر جب اس نے آیت: لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ (الزخرف:۷۵) (ترجمہ)وہ(عذاب)ان (پر) سے ہلکا نہ کیا جاوے گا اوروہ اس(عذاب ) میں مایوس پڑے رہیں گے۔ سنی تو پانی میں گرپڑا اورجان دیدی حضرت علی بن فضیل بن عیاض کی بے ہوشی ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں میں نے حضرت فضیل بن عیاض کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی جبکہ میرے ایک پہلو میں ان کے صاحبزادہ علی بھی نماز میں شریک تھے جب حضرت فضیل نے: أَلْهَاكُمُ التَّکَاثُرُ کو پڑھا اورلَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَتک پہنچے،تو علی بے ہوش ہوکر گرپڑے اورحضرت فضیل کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس سے آگے پڑھ سکتے پھر انہوں نے ہمیں خوفزدہ آدمی کی نماز پڑھائی۔ ابو بکر فرماتے ہیں پھر میں علی کے پاس رہا تو ان کو آدھی رات تک جاکر افاقہ ہوا۔ حضرت علی بن فضیل کی جہنم سے آزادی کی تڑپ امام ابو نعیم نے حضرت فضیل سے باسند ذکر کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں میں نے ایک رات علی کو گھر کے صحن میں جھانک کر دیکھا وہ کہہ رہے تھے جہنماورجہنم سے خلاصی کب ہوگی۔ علی بن فضیل کی درس حدیث میں بے ہوشی علی ایک دن ابن عیینہ کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جہنم کا ذکر تھا علی کے ہاتھ میں کسی شئے میں بندھا ہوا کاغذ تھا(جو ابن عیینہ کے درس حدیث میں حدیثیں لکھنے کے لئے لائے تھے)پس ایک زور دار آواز نکالی اورزمین پر گرگئے اورکاغذ بھی ان کے ہاتھ سے گرگیا۔ جب امام سفیان بن عیینہ ان کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ یہاں موجود ہیں تو میں یہ حدیث کبھی بیان نہ کرتا۔اس کے بعد جب خدانے چاہا تو ان کو ہوش آیا۔ حضرت فضیل بن عیاض کا خوف علی بن خشرم کہتے ہیں میں نے منصور بن عمار کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک روز میں نے مسجد حرام میں گفتگو کی اورکچھ جہنم کے حالات ذکر کئے تو میں نے فضیل بن عیاض کو دیکھا کہ انہوں نے دوزخ کے یہ حالات سن کر ایک چیخ ماری حتی کہ بے ہوش ہوگئے اورزمین پر گر گئے۔ علی بن فضیل کی سورہ رحمن میں کیفیت ابو نعیم کی حلیہ میں ہے کہ علی بن فضیل نے(ایک مرتبہ) امام کے پیچھے نماز پڑھی اورامام نے نماز میں سورہ رحمن کی قرأت کی جب اس نے سلام پھیرا تو علی کو کہا گیا کیا آپ نے نہیں سنا امام نے یہ پڑھا ہے۔ حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (الرحمن:۸۲) (ترجمہ)وہ عورتیں گوری رنگت والی ہوں گی(اور) خیموں میں محفوظ ہوں گی تو انہوں نے جواب دیا مجھے اس سے پہلے کی( اس) آیت نے مشغول کرلیا تھا : يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ (الرحمن:۳۵) (ترجمہ)چھوڑے جائیں گے تم پر صاف آگ کے شعلے اوردھواں ملے ہوئے پھر تم بدلہ نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا زار وقطار رونا ابن ابی ذائب کہتے ہیں مجھے اس آدمی نے بتلایا ہے جو عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھا جب وہ امیر مدینہ تھے،ایک آدمی نے ان کے پاس یہ آیت پڑھی: وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَکَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِکَ ثُبُورًا (الفرقان:۱۳) (ترجمہ)اورجب جہنم کی ایک تنگ جگہ میں ایک زنجیر میں کئی کئی بندھے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے۔ تو حضرت عمر بن عبدالعزیز روپڑے حتیٰ کہ ان پر رونا غالب آگیا اورہچکیاں بلند ہونے لگیں تو اپنی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے اورلوگ ادھر ادھر بکھرگئے۔ حضرت علی بن حسینؒ کی نماز کا عجیب واقعہ ابو نوح انصاری کہتے ہیں حضرت علی بن حسین کے گھر کو آگ لگ گئی یہ اس وقت حالت سجدہ میں تھے لوگ ان کو آوازیں دینے لگے اے رسول اللہ کے بیٹے ! آگ سے بچاؤ کرلیں، تو انہوں نے پنا سرنہ اٹھایا یہاں تک کہ آگ بھی بجھ گئی،تو ان کو کہا گیا آپ کو کس چیز نے اس آگ سے غافل کردیا تھا؟ تو فرمایا دوسری (جہنم کی) آگ نے۔ حضرت ابو سلیمان دارانی جہنم کے: دوپہاڑوں کے درمیان،ایک تمثیل احمد بن ابی الحواری فرماتے ہیں میں نے ابو سلیمان (دارانی) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ: اکثر طور پر میرے سامنے یہ شکل بن جاتی ہے کہ میرا سر جہنم کے دو پہاڑوں کے درمیان ہے اور کبھی یہ نظر آتا ہے کہ میں جہنم میں لٹکایا گیا ہوں حتی کہ اس کی گہرائی تک جا پہنچاہوں (تو ایسا شخص جس کی یہ حالت ہو وہ اس دنیا میں کس طرح خوش رہ سکتا ہے) حضرت سعید بن عبدالعزیزؒ حضرت ابو عبدالرحمان اسدیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن عبدالعزیز سے عرض کیا آپ نماز کی حالت میں کیوں روتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اے بھائی تم اس کے متعلق کیوں پوچھتے ہو؟ میں نے عرض کیا چچا جی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی مجھے اس سے فائدہ پہنچائے تو انہوں نے فرمایا کہ میں جب بھی نماز شروع کرتا ہوں تو دوزخ کی شکل میرے سامنے آجاتی ہے۔ (بس اس کے خوف سے روتا ہوں) عطاء سلمی کا نفس اہل جہنم کی تمثیل بن جاتا تھا سرار فرماتے ہیں میں نے عطاء سلمی کو ان کے روتے رہنے پر جھڑکا تو انہوں نے مجھے کہا اے سرار تو مجھے ( اس حالت پر)کیوں جھڑکتا ہے جو میرے اختیارمیں نہیں ہے جب میں دوزخیوں کو اور جو عذاب و عقاب ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوگا ان کو یاد کرتا ہوں تو میرا نفس میرے سامنے ان کی تمثیل بن جاتا ہے،تو میرے نفس کے متعلق کیا چارہ ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جکڑدیئے جائیں اور جہنم میں پھینک دیا جائے تو وہ کیوں نہ روئے اورچیخ وپکار کیوں نہ کرے، جس جسم کو عذاب دیا جارہا ہو وہ کیا کرے کیوں نہ روئے؟ عقلمند آدمی جہنم کے ذکر سے فکر مند ہوتا ہے عبداللہ بن ابی الہذیل فرماتے ہیں جو آدمی عقل مند ہو اس کو جنت کے ذکر کے بجائے جہنم کا ذکر اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ حضرت یزید رکاشی کے خوف کی حالت یزید رکاشی کو کثرت گریہ پر عتاب کیا گیا اورکہا گیا اگر جہنم تمہارے لئے پیدا کی گئی ہے تو تم اس سے زیادہ نہیں رو سکتے(مطلب یہ ہے کہ مسلمان اورجنتی ہونے کے باوجود اتنا روتے ہو؟ جتنا ایک جہنمی کو رونا چاہیے) تو انہوں نے فرمایا کہ جہنم تو میرے میرے ساتھیوں اورمیرے جن وانسان بھائیوں کے علاوہ کسی کے لئے تیار نہیں کی گئی کیا تونے آیت:سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ (الرحمن:۳۱) (ترجمہ)اے جن وانس ہم عنقریب تمہارے(حساب وکتاب کے) لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ نہیں پڑھی اوریہ آیت نہیں پڑھی: يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ (الرحمن:۳۵) اس کے بعد: يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ (الرحمن:۴۴) (ترجمہ)تم دونوں پر(قیامت کے روز)آگ کا شعلہ اوردھواں چھوڑاجائے گا پھر تم (اس کو) ہٹانہ سکو گے،اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوگے؟ جب آسمان پھٹ جائے گا اورایسا سرخ ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، مجرم لوگ اپنے حلیہ سے پہچانے جائیں گے سو(ان کے) سر کے بال اورپاؤں پکڑ لئے جائیں گے(اورگھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا) سواے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہو جاؤ گے، یہ وہ جہنم ہے جس کو مجرم لوگ (یعنی تم) جھٹلاتے تھے وہ لوگ دوزخ کے اورگرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے ہوں گے(یعنی کبھی آگ کا عذاب ہوگا کبھی کھولتے ہوئے پانی کا)تک تلاوت فرمائی پھر اپنے گھر میں لڑکھڑا نے چیخنے اور رونے لگے حتی کہ بے ہوش ہوگئے۔ رابعہ عدویہ کا ایک آیت پر بے ہوں ہونا حضرت رابعہ عدویہ کے سامنے ایک آیت تلاوت کی گئی جس میں جہنم کا ذکر تھا تو انہوں نے ایک چیخ ماری اورزمین پر گرپڑیں بہت دیر تک ہوش نہ آیا۔ حضرت ابن وہب حضرت ابن واہب حمام میں داخل ہوئے تو آپ نے کسی سے یہ آیت پڑھتے ہوئے سنیوَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ (الرحمن:۳۱) (ترجمہ)اورجب اہل دوزخ جہنم میں آپس میں جھگڑتے ہوں گے۔ تو حضرت ابن وہب بے ہوش ہوکر گر گئے تو ان کو نہانے کے پوڈر سے غسل دیا گیا لیکن ان کو معلوم نہ ہوا۔ حضر معاذہ کی شادی کا عجیب واقعہ جب حضرت معاذہ عدویہ کی اس کے خاوند صلہ بن اشیم کے ساتھ رخصتی کی گئی تو حضرت صلہ کوا ن کے بھتیجے نے(گرم) حمام میں (نہانے کے لئے)داخل کیا پھر ایک صاف خوشبودار کمرے میں بھیج دیا تو انہوں نے (وہاں )کھڑے ہوکرنماز شروع کردی حتی کہ صبح ہوگئی اور(ان کی دلہن)معاذہ نے بھی ایسا ہی کیا(کہ انہوں نے بھی نماز پڑھتے ہوئے صبح کردی)جب صبح ہوئی تو ان کے اس کام پر بھتیجے نے ان کو جھڑکا،تو انہوں نے جواب دیا کہ کل تم نے مجھے پہلے ایسی جگہ داخل کیا جس سے مجھے جہنم یاد دلائی(یعنی گرم حمام میں) پھر ایسے کمرے میں داخل کیا جہاں جنت یاد دلائی(یعنی دلہن کے کمرے میں) پس میری سوچ انہیں دونوں(جنت اورجہنم) کے متعلق قائم ہوگئی تھی کہ میں نے صبح کردی۔ امام اوزاعی اور ذکر دوزخ (مشہور محدث)امام اوزاعی جب دوزخ کو یاد کرتے تو بس یاد ہی کرتے جاتے اورکسی کو ہمت نہ ہوتی کہ وہ آپ سے کسی شئے کے متعلق سوال کرسکے ہاں اگر خود خاموش ہوجاتے(توالگ بات ہوتی)حضرت ولید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہا جب تک کوئی آدمی بھی ان کی مجلس میں بیٹھا رہے گا یہ اس کے سامنے اپنے دل کی حسرتیں ظاہر کرتے رہیں گے۔ ایک عابدہ کی جہنم کے خوف سے خطرناک کیفیت آمنہ بنت ابی الورع عابدہ اللہ سے ڈرنے والی عورتوں میں سے تھیں جب ان کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تو کہتیں کہ جہنم میں داخل ہوجاؤ اس سے کھاؤ پیو اور عیش کرو پھر رونے لگ جاتیں اوریہ حالت ہوجاتی جیسے ہانڈی میں دانہ بھونا جارہاہو، جب جہنم کا ذکر ہوتا خود بھی روتیں اوردوسروں کو بھی رلادیتیں۔ دریا کے کنارے ایک قوم کا عجیب منظر حضرت عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں میں نے اس قوم کی مثل نہیں دیکھا جو ساحل دریا پر تھی ہم نے ساری رات ان کی چیخ وپکار اورجہنم سے پناہ مانگنے کے علاوہ کوئی بات نہ سنی، جب ہم نے صبح کو ان کے قدم کے نشانات پر تعاقب کیا تو ہمیں کوئی بھی نظر نہ آیا۔