انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** دوزخ کے داروغے اورسپاہی انیس فرشتے اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: علیھا تسعۃ عشر"وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ کَفَرُوا" (المدثر:۳۰،۳۱) (ترجمہ)اس (جہنم)پر انیس فرشتے (مقرر)ہوں گے(جوکافروں کو مختلف قسم کے عذاب دیں گے)ہم نے دوزخ کے کار کن صرف فرشتے بنائے ہیں(جن سے ایک ایک فرشتہ میں تمام جنات اورانسانوں کے برابر قوت ہے)اورہم نے ان کی تعداد صرف ایسی رکھی ہے جو کافروں کی آزمائش ہے۔ (مراد اس سے انیس کا عدد ہے) بنو تمیم کا ایک آدمی کہتا ہے کہ ہم حضرت ابو العوامؒ کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے آیت علیھا تسعہ عشر پڑھی پھر کہا،تم کیا کہتے ہو کہ یہ انیس فرشتے ہیں؟ ہم نے کہا؛بلکہ یہ انیس ہزار(فرشتے )ہیں پھر انہوں نے کہا یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟تو بنی تمیم کا آدمی کہتا ہے کہ میں نے کہا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں "وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ کَفَرُوا"ہم نے ان کی تعداد کو کفار کے لئے عذاب بنایا ہے، تو حضرت ابو العوامؒ نے کہا تو صحیح کہتا ہے اوران میں کے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کی دو شاخہ سلاخیں ہوں گی جب ایک دفعہ اس سے ضرب پڑے گی تو ستر ہزار(سال کی مقدار میں) نیچے چلا جائے گا ان میں سے ہر فرشتے کے دونوں کندھوں کے درمیاں اتنا اتنا(یعنی بہت ہی زیادہ)فاصلہ ہوگا۔ (فائدہ)حضرت ابو العوامؒ اوراس کے موافقین کے مطابق یہ آزمائش کفار کیلئے ہے ؛لیکن آیت میں وہ عدد ذکر کیا گیا ہے جو کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لئے کہ ممیز لہ کا ذکر نہیں کیا گیااوریہ بات حضرت قتادہ کی تفسیر کے مطابق ہے جو انہوں نے"وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّکَ إِلَّا هُوَ" کے متعلق فرمائی ہے کہ تیرے رب کے لشکروں کی کثرت کو اس کے سواکوئی نہیں جانتا، اس بات کی تائید حضرت عکرمہ کی اس بات سے ہوتی ہے کہ سب سے پہلے جو دوزخی جہنم میں جائیں گے وہ دروازہ (جہنم) پر چار لاکھ دوزخی داروغوں کو موجود پائیں گے جن کے کالے سیاہ چہرے ہوں گے ان کی ڈاڑھیں کھلی ہوئی ہوں گی، اللہ تعالی نے ان کے دلوں سے شفقت کو ختم کردیا ہوگا کسی کے دل میں رائی کے برابر بھی نرمی نہیں ہوگی،اگر کوئی پرندہ ان میں سے کسی ایک کے کندھے سے اڑے تو دوسرے کندھے تک پہنچنے سے پہلے دو ماہ تک اڑتا رہے،اس کے بعد اس دروازے پر(مزید)انیس فرشتے ملیں گے ان میں سے ہر ایک کے سینے کی چوڑائی ستر سال(کے سفر)کے برابر ہوگی پھر(یہ دوزخی)ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پانچ سو برس میں پہنچیں گے اور ہر در وازہ پر پہلے والے دروازہ جتنے فرشتے ملیں گے،یہاں تک کہ وہ جہنم کی تہ تک جاپہنچیں۔ (ابن ابی حاتم) ہر دروازہ پر انیس فرشتوں کے ساتھ چہہتر لاکھ دربان ہوں گے (فائدہ)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے ہر دروازہ پر انیس دربان ہوں گے جو باقی دربانوں کے سربراہ ہوں گے اوران میں سے ایک کے ماتحت چار لاکھ فرشتے ہوں گے۔ (منہ) دوزخ کے انیس فرشتوں کی طاقت سلف اورخلف میں یہ بات مشہور ہے کہ فرشتوں کی(انیس کی تعداد) ان کافروں کے گمان کے مطابق ہے جو ان کے قتل کردینے کے گھمنڈ میں تھے اور انہوں نے خیال کرلیا تھا کہ ان سے دفاع اوربچاؤ ان کے لئے ممکن ہوگا، لیکن انہیں یہ علم نہیں ان فرشتوں میں سے کسی ایک کا بھی سب انسان مل کر بھی مقابلہ نہیں کرسکتے،اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا ہم نے دوزخیوں کے لئے فرشتوں کے علاوہ کسی کو مقرر نہیں کیا، اورہم نے یہ مقدار نہیں مقرر کی مگر کافروں کے عذاب کے لئے اور ساتھ ہی اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا:تیرے رب کے لشکروں کو اس کے علاوہ اورکوئی نہیں جانتا۔ (المدثر:۳۱) ایک کافر کی سرکشی کا جواب سدیؒ فرماتے ہیں قریش میں ایک آدمی تھا جسے ابوالاشدین کہا جاتا تھا اس نے کہا اے قریش کے لوگو تمہیں انیس فرشتوں سے بالکل نہیں گھبرانا چاہیے میں دس فرشتوں کو اپنے دائیں کندھے کے ساتھ تم سے ہٹادوں گا اور باقی نوکو اپنے کندھے سے،پھر تم اکڑ کر جنت کی طرف چلوگے (وہ یہ بات طنز کے طور پر کہتا تھا)تو اللہ تعالی نے (جواب میں )فرمایا"ہم نے اہل جہنم کے لئے فرشتوں کے علاوہ کسی کو مقرر نہیں کیا اور ہم نے ان کی تعداد کافروں کو سزادینے کے لئے مقرر کی ہے۔ ابوجہل کا تکبر حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیو!تم میں سے دس افراد میں یہ ہمت نہیں ہے کہ تم جہنم کے داروغوں میں سے ایک(ایک)کو پکڑسکوجبکہ تم بڑی تعداد میں ہو اور تمہارا یہ دشمن (مراد حضرت محمدﷺ ہیں)یہ گمان کرتا ہے کہ وہ (صرف)انیس(فرشتے)ہوں گے۔ تورات اورانجیل میں بھی انیس داروغوں کا ذکر ہے اورحضرت قتادہ(ہی)فرماتے ہیں کہ تورات اورانجیل میں ہے کہ جہنم کے انیس داروغے ہیں۔ انیس فرشتوں والی آیت کا ایک اورسبب نزول (حدیث)حضرت برا"علیھا تسعۃ عشر"کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضورﷺ کے ایک صحابی سے جہنم کے دربانوں کے متعلق سوال کیا،تو اس نے جواب دیا کہ اللہ اوراس کا رسول زیادہ جانتے ہیں اس کے بعد وہ آدمی آیا اورنبی کریمﷺ کو(اس واقعہ کی)خبر کی تو اللہ تعالی نے آپﷺ پر اسی گھڑی یہ آیت علیھا تسعۃ عشر نازل فرمائی پس آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کرام کو اس کی اطلاع فرمائی اوراس صحابی کو فرمایا کہ اب ان(یہود)کو بلالے جب وہ آئے تو انہوں نے حضورﷺ سے جہنم کے دربانوں کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے جواب میں اپنی دونوں ہتھیلی کی انگلیوں سےاشارکیا اور دوسری بار کے اشارہ میں اپنا انگوٹھا بند کرلیا۔(یعنی پہلے دس انگلیاں دکھائیں پھر ایک انگوٹھے کو دباکر نو انگلیاں دکھائیں اور اس طرح سے دوزخ کے انیس فرشتوں کا اشارہ فرمایا) (خرجہ ابن ابی حاتم) (حدیث) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے کچھ آدمیوں نے حضورﷺ کے کچھ صحابہ سے پوچھا کہ کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کی تعدادا جانتا ہے انہوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں ہم آپ ﷺ سے پوچھیں گے،تو ایک صحابیؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے پس عرض کیا کہ اے محمد ﷺ آج آپ کے صحابہ مغلوب ہورہے ہیں تو آپﷺ نے پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے بتلایا کہ ان سے یہودیوں نے سوال کیا ہے کہ کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کی تعدادا جانتا ہے؟تو حضورﷺ نے پوچھاکہ پھر انہوں کیا جواب دیا(تو انہوں نے عرض کیا کہ)انہوں نے یہ جواب دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں یہاں تک کہ ہم اپنے نبیﷺ سے پوچھ لیں، تو حضورﷺ نے فرمایا وہ قوم غالب رہتی ہے جس سے ایسی شئے کا سوال پوچھا جائے جسے وہ نہیں جانتے اورکہتے ہیں ہمیں اس کا علم نہیں جب تک کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے نہ پوچھ لیں،لیکن ان(یہودیوں)نے تو اپنے نبی سے یہ سوال کیا اورکہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالی کو سر عام دکھلادے،اللہ کے ان دشمنوں کو میرے پاس بلا لاؤ،پس جب وہ آگئے اورانہوں نے کہا اے ابو القاسم(یہ حضورﷺ کی کنیت ہے)جہنم کے داروغے کتنے ہیں؟ فرمایا اتنے اوراتنے، ایک مرتبہ آپ نے دس اورایک مرتبہ نو کا اشارہ فرمایا،تو انہوں نے کہا آپ ﷺ نے درست فرمایا(ترمذی)بیہقی وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث گذشتہ حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (حدیث)حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے الوداعی انداز میں تشریف لائے اورفرمایا: أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ثَلَاثًا وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ وَعَلِمْتُ کَمْ خَزَنَةُ النَّارِ وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ (مسند احمد،باب مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص،حدیث نمبر:۶۶۸۶) (ترجمہ)آپ نے تین مرتبہ فرمایا: میں محمد آخری اورامی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں،میں ابتدائی اورانتہائی اورجامع کلمات عطا کیا گیا ہوں اور مجھے یہ بھی علم عطا ہوا ہے کہ جہنم کے داروغے اورعرش (الہی)کو اٹھانے والے کتنے(فرشتے)ہیں۔ (مسند احمد) تند خو زبردست فرشتے وہ فرشتے جو جہنم پر مقرر ہیں ان کی تند خوئی اورطاقت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: "عَلَيْهَا مَلَائِکَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ" (التحریم:۶) (ترجمہ)اس(جہنم)پر ایسے تندخو اورزبردست فرشتے مقرر ہیں،اللہ تعالی ان کوجو بات فرماتے ہیں اس کی نافرمانی نہیں کرتے اوروہی کام کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ہو۔ داروغوں کی طاقت اورجثہ حضرت کعب (احبار)فرماتے ہیں جہنم کے داروغوں میں سے ہر ایک داروغہ کے دونوں کندھوں کا درمیانی فاصلہ ایک سو برس کے برابر ہے اوران میں کے ہر ایک کے ساتھ لوہے کے دو شاخے ڈنڈے ہوں گے،ایک دفعہ کی ضرب سے سات لاکھ(برس کے برابر فاصلہ میں)آگ میں جاگرے گا۔ (ابو نعیم) ابو العمران الجونی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم کے داروغوں میں سے ہر فرشتہ کے دونوں کندھوں کا فاصلہ ایک سال کے سفر کے برابر ہے یہ اہل جہنم کے جس آدمی کو ایک دفعہ ضرب لگائے گا اس کو سر سے قدموں تک میدہ کرکے رکھ دے گا۔ (عبداللہ بن احمد) ابوعمران الجونی سے ایک روایت میں اس طرح بھی منقول ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم کے داروغے انیس ہیں ان میں سے ہر ایک کے دونوں کندھوں کا درمیانی فاصلہ سال کے برابر ہے ان کے دلوں میں نرمی(بالکل )نہیں ہے ان کو صرف عذاب دینے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ (عبداللہ بن احمد) حضورﷺ سے ملاقات کے وقت ایک داروغہ کی کیفیت (حدیث)حضرت صالح ابوالخلیل فرماتے ہیں جس رات نبی کریمﷺ کو معراج کرائی گئی(اس میں)اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی طرف رسولوں کی ایک جماعت کو بھیجا جنہوں نے آپ ﷺ سے مسرت اورخوشی سے ملاقات فرمائی اور مسجد کے ایک کونہ میں ایک نمازی نماز ادا کررہا تھا جو آپﷺ کی طرف متوجہ نہ ہوا،اس کے بعد وہ بھی آپ ﷺ کے پاس آگیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں لیکن میں نے اس سے خوشی اورفرحت کو محسوس کیا ہے سوائے اس کونے والے کے،تو انہوں نے فرمایا یہ بھی آپ کے ساتھ اتنا ہی خوش ہوا ہے جتنا ہم خوش ہوئے ؛لیکن یہ جہنم کے داروغوں میں سے ایک داروغہ ہے (اس لئے اس پر ظاہری طورپر کوئی خوشی طاری نہیں ہوئی) (جوزجانی) مالک جہنم کے فرشتوں کا سردار اللہ تعالی نے سورۃ زخرف آیت ۷۷ میں مالک فرشتہ کا ذکر فرمایا ہے اوریہ جہنم کا داروغہ ہے اورجہنم کے سب داروغوں سے بڑا بھی ہے اور ان کا سردار بھی ہے،حضورﷺ نے اس کو معراج کی شب میں دیکھا ہے اس نے حضورﷺ سے سلام کرنے میں پہل بھی فرمائی ہے۔ (مسلم شریف از حضرت انسؓ) اورآپ ﷺ نے اس کو(ایک مرتبہ)خواب میں بھی دیکھا اس کی شکل نہایت مکروہ تھی یعنی جس طرح تم کسی مرد کو نہایت بدصورت دیکھتے ہو وہ ایسا ہی مکروہ منظر ہے۔ جہنم کی پولیس یعنی زبانیہ فرشتے اللہ تعالی فرماتے ہیں: "فَلْيَدْعُ نَادِيَه،سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ" (العلق:۱۷،۱۸) (ترجمہ)سویہ اپنی مجلس والوں کو بلالے ہم بھی دوزخ کے زبانیہ کو بلالیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ زبانیہ سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عطاءؒ فرماتے ہیں یہ تند خوزبردست فرشتے ہیں۔ حضرت مقاتلؒ فرماتے ہیں کہ یہ جہنم کے داروغے ہیں۔ حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں کلام عرب میں"زبانیہ"پولیس کو کہتے ہیں۔ دوزخ کی پولیس کے سر نیچے اورپاؤں اوپر ہوں گے حضرت عبداللہ بن الحارثؒ فرماتے ہیں زبانیہ وہ فرشتے ہیں جن کے سرزمین میں ہوں گے اورپاؤں آسمان میں۔ (خرجہ ابن ابی حاتم) (فائدہ)ہوسکتا ہے کہ دوزخیوں کے سرنیچے اور پاؤں اوپر کو ہوں گے جیسا کہ ایک حدیث میں میدان محشر میں ان کے متعلق ایسا ہی مروی ہے اور اسی مناسبت سے دوزخ کی پولیس بھی الٹی ہو۔ (واللہ اعلم) دوزخی کو گرفتار کرنے کے لئے ستر ہزار فرشتے لپکیں گے منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی فرمائیں گے خذوہ فغلوہ(اس شخص کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق پہنادو) تو اس پر ستر ہزار فرشتے لپکیں گے اور ان میں کا ہر ایک فرشتہ اتنا بڑا ہے کہ اگر اپنے ہاتھوں کو پھیلادے تو ستر ہزار آدمیوں کو آگ میں ڈالدے۔ (ابن ابی حاتم) (فائدہ)اس طرح کا ایک ارشاد گذشتہ مضامین میں حضرت فضیل بن عیاضؒ سے بھی نقل ہوچکا ہے۔