انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** خلقتِ انسانی کا مقصد اللہ تعالی نے انسانوں کو اس لیے نہیں بنایا کہ وہ ان کو پیدا کرکے دوزخ کا ایندھن بنائے بلکہ اس نے تو ان کو اپنی رحمت کے ظہور کے لیےپیدا کیا،غیظ و غضب کے اظہار کے لیے نہیں فرمایا:۔ "اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَان،اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًاoلِّیُعَذِّبَ اللہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ وَیَتُوْبَ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ،وَکَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا"۔ (الاحزاب:۷۲) ہم نے یہ امانت آسمانوں اورزمین اورپہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کردیا اوراس سے ڈرگئے اورانسان نے اس کو اپنے ذمہ لیا وہ ظالم ہے جا ہل ہے،انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالی منافقین ومنافقات اور مشرکین ومشرکات کو سزا دیگا اور مومنین اورمومنات پر توجہ فرمائیگا اوراللہ غفور رحیم ہے۔ (ترجمہ تھانویؒ) اس آیت سے صاف معلوم ہوگیا اللہ تعالی کی اصل صفت غفور ورحیم ہے یعنی بخشش ورحمت اس کی ذاتی صفت ہے اب اگر کوئی اپنے آپ پر ظلم کرکے گناہ کرتا ہے اوروہ اپنے آپ کو رحمت الہی سے دور کرتا ہے تو یہ خود انسان کا فعل ہے: "فَمَا کَانَ اللہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ"۔ (التوبۃ:۷۰) سو اللہ تعالی نے تو ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (ترجمہ تھانویؒ) اس لیے جنت یا دوزخ جو بھی ہے انسان کے اپنے ہی عمل کا لازمی نتیجہ ہے،جس طرح دنیا کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی لازمی نتیجہ ہے،مثلاً کھانے کا نتیجہ پیٹ بھرنا،پینے کا نتیجہ ہوتا ہے،جو دنیا میں ہمارے عمل کے بعد ملتا رہتا ہے،اسی طرح ہمیں اپنے اعمال کا ایک روحانی نتیجہ بھی لازمی ملنے والا ہے جو ہم کو اس دوسرے عالم میں ملے گا۔