انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت ابو اسحاق ابراہیم الفزاریؒ نام ونسب ابراہیم نام،ابو اسحاق کنیت،مکمل شجرۂ نسب یہ ہے،ابراہیم بن محمد بن ابی حصن الحارث بن اسماء بن خارجہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر (تہذیب التہذیب:۱/۱۵۱،وطبقات ابن سعد:۷/۱۸۵)نام کے بجائے کنیت ہی سے زیادہ مشہور ہیں،قبیلہ بنو فزارہ سے نسبت ولاء رکھنے کی وجہ سے فزاری کہلائے۔ (اللباب فی تہذیب الانساب :۲/۲۱۳) مات ابو اسحاق الفزاری وما علیٰ وجہ الارض افضل منہ (شذرات الذہب:۱/۱۳۰) ابو اسحاق الفزاری نے وفات پائی تو پورے روئے زمین پر ان سے بڑا فاضل کوئی نہ تھا۔ حافظ ابن کثیر رقمطراز ہیں: ابو اسحاق الفزاری امام اھل الشام بعد الاوزاعی فی المغازی والعلم والعبادۃ (البدایہ والنہایہ:۱۰/۱۸۶) امام اوزاعی کے بعد شام میں ابو اسحاق الفزاری مغازی،علم اور عبادت میں درجۂ امامت رکھتے تھے۔ علامہ ابن عساکر دمشقی لکھتے ہیں: احد ائمۃ المسلمین واعلام الدین (التاریخ الکبیر:۲/۲۵۲) شیوخ وتلامذہ جن اساطین علم سے انہوں نے فیض حاصل کیا ان میں امام اعمش،ہشام بن عروہ،ابواسحاق السبیعی،حمید الطویل ،موسیٰ بن عقبہ،یحییٰ بن سعید،مالک بن انس،شعبہ،سفیان ثوری،عطاء بن السائب اور عبید اللہ بن عمر کے اسماء لائق ذکر ہیں۔ اور اسی طرح معاویہ بن عمر،زکریا بن عدی،عبداللہ بن مبارک،محمد بن کثیر،مسیب بن واضح،محمد بن سلام،عبداللہ بن عون،محمد بن عبید الرحمن اور علی بن بکاران کے نامور تلامذہ میں ہیں۔ حدیث یوں تو وہ جملہ اسلامی علوم میں کمال رکھتے تھے؛ لیکن حدیث نبوی ان کا خاص موضوع تھا،اسانید اوراسماء الرجال کی معرفت میں ان کی نظیر بہت کم ملتی ہے،ایک مرتبہ خلیفۂ وقت ہارون الرشید نے ایک بددین کے قتل کئے جانے کا حکم دیا، اس نے کہا اے امیر المومنین آخر آپ میرے قتل کا حکم کیوں دیتے ہیں،ہارون نے جواب دیا،اللہ کے بندوں کو تیرے فتنے سے بچانے کے لئے، اس پر وہ زندیق بولا،آپ مجھے قتل کرکے کیا کریں گے میں نے جو چار ہزار روایات وضع کرکے عوام میں پھیلادی ہیں،ان کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ ہارون نے فوراً کہا: این انت یا عدواللہ من ابی اسحاق وعبداللہ ابن مبارک یخلافھا فیخرجا نھا حرفاً حرفاً (معجم الادباء:۱/۲۸۵،وکتاب الموضوعات ملا علی قاری:۱۳) اے دشمنِ خدا تو ہے کس خیال میں !ابو اسحاق الفزاری اورعبداللہ بن مبارک ان تمام جعلی حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے اوران کا ایک ایک حرف نکال باہر کریں گے۔ امام جرح وتعدیل عبدالرحمن بن مہدی فرماتے ہیں کہ ہر عالم کسی نہ کسی فن میں درجہ امتیاز رکھتا ہے؛چنانچہ میں نے بصرہ میں حماد بن زید، کوفہ میں زائدہ ومالک بن مغول،حجاز میں مالک بن انس،اورشام میں ابو اسحاق الفزاری واوزاعی سے بڑا حدیث کا نکتہ شناس کسی کو نہیں دیکھا،اگر کوئی راوی ان سے حدیث بیان کرے تو بلا ریب وشک وہ قابل اطمینان ہے؛کیونکہ یہ لوگ سنت کے امام ہیں۔ (التاریخ الکبیر:۲/۲۵۴) فقہ حدیث کے ساتھ فقہ میں بھی کمال حاصل تھا،علی بن بکار کہتے ہیں کہ میں جن ائمہ علم وفن سے مل سکا ہوں ان میں ابو اسحاق الفزاری سے بڑا فقیہ میری نظر سے نہیں گزرا، (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۴۹) عجلی کابیان ہے کہ وہ کثرت حدیث کے ساتھ صاحب فقہ بھی تھے۔ (تہذیب التہذیب:۱/۱۵۲) جرح وتعدیل اکثر علماء نے ان کی ثقاہت وعدالت کو تسلیم کیا ہے، عجلی بیان کرتے ہیں کہ وہ ثقہ، فاضل اورصاحبِ سنت تھے (طبقات ابن سعد:۷/۱۸۵) امام نسائی اور ابو حاتم انہیں امام معتبر قرار دیتےہیں (تہذیب التہذیب:۱۱۵۲)علاوہ ازیں یحییٰ بن معین اورابنِ حبان وغیرہ نے بھی ان کی توثیق کی ہے (تہذیب التہذیب:۱/۱۵۳)امام اوزاعی ان کے شیوخ میں شامل ہیں،لیکن اس کے باوجود ان سے روایت کرتے ہیں ،جب ان سے پوچھا جاتا کہ آپ سے یہ روایت کس نے بیان کی ہے تو فرماتے: حدثنی الصادق المصدوق ابو اسحان الفزاری (تہذیب التہذیب:۱/۱۵۳) مجھ سے صادق اورمصدوق،ابو اسحاق الفزاری نے یہ حدیث روایت کی ہے۔ سرحد شام کی پاسبانی مصیصہ شام کا ایک نہایت خوبصورت شہر ہے جس کی حفاظت ونگرانی کے فرائض علماء اسلام کی ایک بڑی جماعت نے انجام دئے ہیں،ابو اسحاق الفزاری بھی اس شرف سے بہرہ ور ہوئے تھے، انہوں نے وہاں نہ صرف اپنے ایک لائق محافظ ہونے کا ثبوت دیا ؛بلکہ اس سرحدی علاقہ کو قال اللہ وقال الرسول کے سرمدی نغموں سے بھی معمور کردیا،عجلی کا بیان ہے کہ ھوالذی ادب التضر وعلمھم بالسنۃ (شذرات الذہب:۱/ ) ان ہی نے سرحدی لوگوں کو با ادب بنایا اورانہیں حدیث کی تعلیم دی۔ پاکیز گی عقائد عقائد کے بارے میں وہ نہایت متشدد تھے؛چونکہ خود ان کا آئینہ قلب شفاف تھا، اس لئے وہ اسی کا پرتو دوسروں میں بھی دیکھنے کے متمنی رہا کرتے تھے،اہل بدعت سے ملنا تک گوارا نہ فرماتے،ابو مسہر بیان کرتے ہیں کہ ابو اسحاق الفزاری ومشق میں آ ئے تو تشنگان علم گروہ درگروہ ان سے سماع حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے،شیخ نے مجھ سے فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ جو شخص قدریہ کے عقائد رکھتا ہو وہ ہماری مجلس میں نہ آئے، جو فلاں فلاں غلط عقائد کا حامل ہو وہ بھی ہماری مجلس میں شریک نہ ہوا، اسی طرح جو شخص حکمرانِ وقت کے یہاں آمد رفت رکھتا ہو وہ ہمارے پاس نہ آئے، راوی کا بیان ہے کہ میں نے حسب الحکم یہ بات لوگوں کے گوش گزار کردی۔ (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۴۸) مصیصہ ہی کے دورانِ قیام میں ایک دن امام فزاری کو خبر ملی کہ فرقہ قدریہ کا کوئی شخص ان سے ملاقات کا خواہاں ہے،امام صاحب نے کہلا بھیجا کہ وہ فوراً یہاں سے چلا جائے (التاریخ الکبیر:۲/۲۵۵) عقائد کے بارے میں ان کی شدت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب انہیں علم ہوتا کہ سرحد میں کوئی بدعتی شخص داخل ہوا ہے فوراً اسے شہر بدرکرادیتے۔ (معجم الادباء:۱/۲۸۴) امر بالمعروف ونہی عن المنکر دوسرے علماء سلف کی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر ان کا خاص شیوہ تھا اور اس میں وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے،اس تبلیغ ودعوت کے اثر سے اس وقت شہر مصیصہ میں شعائرِ اسلام کا بہت رواج ہوگیا تھا۔ استغناء امام فزاری کے پاس اگرچہ مال و دولت کی بڑی فراوانی تھی،لیکن ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ اس میں سے اپنی ذات پر کبھی ایک حبہ بھی صرف نہیں کیا،جو کچھ ملتا وہ یا تو معذور اوراپاہج لوگوں میں تقسیم کردیتے یا اہل طرطوس پر خرچ کردیتے، ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے ان کو تین ہزار دینار دیئے، فرمایا میں اس سے مستغنی ہوں اورکل رقم فوراً ہی خیرات کردی۔ (ایضاً:۱/۲۸۶) بشارت حضرت فضیل بن عیاض بیان کرتے ہیں کہ ایک شب مجھے عالم ر ویا میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی میں نے آپ ﷺکے پہلو میں کافی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھنے کے ارادہ سے آگے بڑھا، رسول اللہ ﷺنے مجھے روک کر ارشاد فرمایا :ھذا مجلس الفزاری (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۴۸)یہ ابو اسحاق الفزاری کی نشست گاہ ہے۔ وفات ۱۸۵ھ ۱۸۶ھ یا ۱۸۸ ھ میں بمقام مصیصہ رحلت فرمائی،علامہ یاقوت حموی نے مؤخرالذکر سالِ وفات کو اصح قرار دیا ہے،لیکن اکثر روایات سے ۱۸۵ھ کی تائید ہوتی ہے (طبقاتِ ابن سعد:۷/۱۸۵، شذرات الذہب:۱/۳۰۷)اس وقت ہارون الرشید کی خلافت کا زمانہ تھا،بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی وفات کی خبر سُن کر یہوو ونصاریٰ تک فرط رنج والم سے اپنے سروں پر خاک اڑانے لگے،عطا کو جب ان کے انتقال کی اطلاع ملی تو روپڑے اور فرمایا: ما دخل اھل الاسلام من موت احد مادخل علیھم من موت ابی اسحاق (تاریخ ابن عساکر:۲/۲۵۵) ابو اسحاق الفزاری کی موت سے مسلمانوں کے دلوں پر جو کچھ گزرگئی وہ کسی اور کے مرنے سے نہیں گزری تصنیف تدریس حدیث کے ساتھ وہ صاحبِ تصنیف بھی تھے،ابن ندیم نے فہرست میں ان کی تصنیف کتاب السیر فی الاخبار والاحداث کا ذکر کیا ہے (فہرست ابن ندیم:۱۳۵) اس کتاب کے متعلق حمیدی امام شافعی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اس کے قبل سیرت میں کسی نے کتاب تصنیف نہیں کی،ابن ندیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابو اسحاق الفرازی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے آلہ فلکی ایجاد کیا،اس فن میں ان کی تصنیف بھی ہے۔ (الفہرست بحوالہ تہذیب التہذیب:۱/۱۵۲)