انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** انتباہ سلطنتِ اسلامیہ کا رقبہ اور وسعت مملکتِ عہد بنواُمیہ تک برابر ترقی پذیر رہا، حکومتِ اسلامیہ کا ایک ہی مرکز تھا اور دمشق کے دربار خلافت سے جوحکم جاری رہتا تھا، اس کی تعمیل اندلس ومراکش کے مغربی ساحل سے چین وترکستان تک یکساں ہوتی تھی، خلافتِ اسلامیہ جب بنوعباس کے قبضہ میں آئی توچند ہی روز کے بعد اندلس میں بنواُمیہ کی ایک خود مختار سلطنت الگ قائم ہوگئی اور مسلمانوں کی سلطنت کے بجاے ایک کے دومرکز ہوگئے؛ پھرچند روز کے بعد مراکش میں ایک تیسرا مرکز حکومت قائم ہوا، اس کے بعد افریقہ ومصر میں ایک اور حکومت قائم ہوئی؛ اسی طرح ماوراءالنہر، خراسان اور فارس وغیرہ میں حکومتیں خلیفہ بغداد کی ماتحتی سے آزاد ہوتی گئیں، اب جس زمانہ کے حالات بیان ہورہے ہیں، یہ وہ زمانہ ہے کہ خلیفہ بغداد کی حکومت شہربغداد میں بھی باقی نہیں رہی تھی، چند روز پہلے دجلہ وفرات کا دوآبہ خلیفہ کی حکومت میں شامل تھا؛ لیکن جب سے امیرالامراء کا عہدہ ایجاد ہوا، اس وقت سے اس دوآبہ کی حکومت امیرالامراء کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور برائے نام وہ اپنے آپ کوخلیفہ کا محکوم اور نائب کہتا تھا۔ خاص شہر بغدا دمیں خلیفہ کے احکام کی قدرومنزلت تھی اور بغداد میں وہ سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، ہرایک وہ شخص جودوسروں کومغلوب کرکے اپنی طاقت کا اظہار کرسکتا تھا، اپنی قوتِ بازو سے امیرالامراء بن سکتا تھا، خلیفہ کومجبوراً اسے امیرالامراء کا خطاب دینا پڑتا تھا، خلیفہ کے ہاتھ میں طاقت اگرچہ کچھ نہ تھی؛ پھربھی اس کوتھوڑی بہت آزادی ضرور حاصل تھی اور ایک قسم کا رُعب وجلال بھی باقی تھا؛ لیکن اب معزالدولہ احمد بن بویہ ماہی گیر اہواز سے آکر بغداد اور خلیفہ پرمسلط ہوتا ہے، اسے ملک کا خطاب ملتا ہے اور اس کے بعد سے یکے بعد دیگرے ملوک ہوتے ہیں، معزالدولہ نے خلیفہ کونظربند کرکے ایک معزز قیدی کی حیثیت سے رکھا اور شہر بغداد میں جواثر واقتدار خلیفہ کوحاصل تھا وہ بھی چھین لیا، خلیفہ کا کام صرف یہ ہوگیا تھا کہ جب کوئی سفیر باہر سے آئے تووہ خلیفہ کے دربار میں حاضر کیا جائے اور اس مصنوعی دربار میں خلیفہ کی پرشوکت نمائش کرکے حسبِ منشاء اس سے کام لیا جائے، کسی شخص کوخطاب دینا کسی کوکوئی سند عطا فرمانا یہ سب خلیفہ کے ہاتھ سے ہوتا تھا؛ لیکن خلیفہ کے اختیار سے نہیں ہوتا تھا؛ بلکہ ہرایک کام میں اختیار ملک ہی کا ہوتا تھا، خلیفہ کی حیثیت شاہ شطرنج سے زیادہ نہ تھی، ملک خلیفہ کی ایک تنحواہ مقرر کردیتا تھا، یہ تنخواہ جب خلیفہ کودیر سے ملتی تھی یانہیں ملتی تھی تواسے مجبوراً اپنا سامان فروحت کرکے اپنی گزرکرنی پڑتی تھی؛ پس جب کہ خلفاء عباسیہ کی یہ حالت ہوچکی تواب ظاہر ہے کہ حکومت اور سلطنت کی تاریخ لکھنے کے لیے ان کا تذکرہ غیرضروری ہوچکا ہے؛ کیونکہ سوائے صرف لفظ خلیفہ کے اور کوئی چیز باقی نہیں رہی؛ مگرچونکہ ہم کوحکومتِ اسلامیہ کی تاریخ پوری کرنی ہے اور اس میں ان حکمرانوں کا حال بیان ہونا ضروری ہے؛ جنھوں نے بغداد میں ملک کے نام سے نہ صرف بغداد بلکہ دوآبہ فرات ودجلہ اور دوسرے صوبوں پربھی حکومت کی ہے؛ لہٰذا ان ملوک کے حالات بیان کرنے میں ہم کوابھی تھوڑی دور تک اور انہیں خلفائے عباسیہ کے سہارے سے چلنا چاہیے، جواگرچہ شاہ شطرنج سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتے؛ مگرخلیفہ ضرور کہلاتے ہیں، خلاصہ کلام یہ کہ اب ہم خلفائے عباسیہ کے حالات مطالعہ نہیں کررہے؛ بلکہ حکومت بغداد کے حالات مطالعہ کررہے ہیں، ساتھ ہی اس بات کوبھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ اگرچہ جابہ جا صوبوں میں الگ الگ خود مختار حکومتیں اور سلطنتیں قائم ہوچکی تھی؛ مگرخلیفہ کے نام کی تکریم سب بجالاتے اور خطبوں میں اس کانام ضرور لیتے تھے، اندلس میں بجائے خود خلافت قائم کی تھی، عبیدیین جوشیعہ بلکہ قرامطہ تھے، خلافت وامارت کے مدعی تھے، اس لیے اندلس وافریقہ میں خلیفہ بغداد کا نام خطبوں میں نہیں لیا جاتا تھا؛ مگرباقی تمام ممالک اسلامیہ میں بغداد کے عباسی خلیفہ کوسب خلیفہ مانتے اور اپنا مذہبی پیشوا جانتے تھے، کبھی کبھی ایسا ضرور ہوا ہے کہ خاص بغذاد میں کسی ملک نے خلیفہ کا نام خطبہ سے خارج کردیا اور صرف اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا؛ مگردوسرے ملکوں میں خلیفہ کا نام خطبوں میں ضرور شامل رہا۔