انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت منذربن عمرو نام ونسب منذر نام،اعنق لیموت لقب،قبیلۂ خزرج کے خاندان ساعدہ سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،منذر بن عمرو بن خنیس بن حارثہ بن لوذان بن عبدود بن زید بن زید بن ثعلبہ بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن الخزرج الکبیر اسلام عقبہ ثانیہ میں بیعت کی اور اپنے قبیلہ کے نقیب مقرر ہوئے،حضرت سعدؓ بن عبادہ بھی اسی قبیلہ کے نقیب تھے۔ (اسد الغابہ:۴/۴۱۸) غزوات عام حالات اوروفات طلیب بن عمیر سے مواخاۃ ہوئی بدر اور احد میں شریک ہوئے موخر الذکر غزوہ میں میسرہ کے افسر تھے۔ غزوۂ احد کے ۴ ماہ بعد صفر کے مہینہ میں انصار کے ستر نوجوان جو قراء کے نام سے مشہور تھے،اشاعت اسلام کی غرض سے نجد بھیجے گئے،حضرت منذرؓ اس جماعت کے امیر تھے، بیر معونہ پہونچے تھے کہ رعل اورذکوان کے سواروں نے گھیر لیا، ان لوگوں نے ہر چند کہا کہ ہم کو تم سے کوئی سروکار نہیں، رسول اللہ ﷺ کے کام سے کسی طرف جارہے ہیں ،ظالموں نے ایک نہ سنی اور سب کو قتل کر ڈالا، صرف منذرؓ باقی رہ گئے، ان سے کہا کہ درخواست کرو تو تم کو امان دیجائے،لیکن ان کی حمیت یہ بے غیرتی گوارا نہیں کرسکتی تھی صاف انکار کردیا اورجس مقام پر حضرت حرامؓ شہید ہوئے تھے وہیں پہنچ کر لڑے اور قتل ہوئے ،آنحضرتﷺ کو خبر ہوئی تو فرمایا: اعنق لیموت!یعنی انہوں نے دانستہ موت کی طرف سبقت کی اس وقت سے ان کا یہ لقب خاص وعام کی زبان زد ہوگیا،(طبقات:۲/۳۶،۳۷،صحیح بخاری:۲/۵۸۶) یہ اوائل ۴ھ کا واقعہ ہے۔ اولاد کوئی اولاد نہیں چھوڑی فضل وکمال جاہلیت میں عربی لکھتے تھے(اسد الغابہ:۴/۴۱۸) اسلام میں قرآن وحدیث کی جو واقفیت بہم پہنچائی تھی اسی کی بناء پر اشاعت اسلام کے لئے وہ منتخب ہوئے اور مبلغین کے امیر بنائے گئے ۔ اخلاق زہد و تقویٰ،عبادت و قیام لیل، یہ تمام قراء کا شیوہ تھا ،حضرت منذرؓ بھی انہی اوصاف سے متصف تھے۔