انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** نقطے اہلِ عرب میں ابتداً حروف پر نقطے لگانے کا رواج نہیں تھا اور پڑھنے والے اس طرز کے اتنے عادی تھے کہ انھیں بغیرنقطوں کی تحریر پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی اور سیاق وسباق کی مدد سے مشتبہ حروف میں امتیاز بھی بہ آسانی ہوجاتا تھا، خاص طور سے قرآن کریم کے معاملے میں کسی اشتباہ کا امکان اس لیے نہیں تھا کہ اس کی حفاظت کا مدار کتابت پر نہیں؛ بلکہ حافظوں پر تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو نسخے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں بھیجے تھے ان کے ساتھ قاری بھی بھیجے گئے تھے، جو اسے پڑھنا سکھاسکیں۔ اس میں روایات مختلف ہیں کہ قرآن کریم کے نسخے پر سب سے پہلے کس نے نقطے ڈالے؟ بعض روایتیں یہ کہتی ہیں کہ یہ کارنامہ سب سے پہلے حضرت ابوالاسود دؤلی رحمہ اللہ نے انجام دیا (البرہان: ۱/۲۵۰) بعض کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلقین کے تحت کیا (صبح الاعشی:۳/۱۵۵) اور بعض نے کہا ہے کہ "کوفہ" کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے ان سے یہ کام کرایا اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ کارنامہ حجاج بن یوسف نے حسن بصری رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ اور نصر بن لیثی رحمہ اللہ کے ذریعہ انجام دیا۔ (تفسیرالقرطبیؒ: ۱/۶۳)