انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** مکہ وطائف مکہ وطائف میں خالص عرب مشرکین کی آبادی تھی؛ مگرمکہ کی قدیم تاریخوں میں عربوں اور خصوصیت سے قریش اور یہود میں تجارتی وتمدنی تعلقات کے بیان کے سلسلہ میں یہود کا ذکر بھی آتا ہے، جس سے یہ بحث پیدا ہوتی ہے کہ آیا مکہ وطائف میں عرب مشرکین کے ساتھ یہود آباد تھے یانہیں، بعض مستشرقین نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ میں عربوں کے ساتھ یہود بھی آباد تھے۔ (تاریخ الیہود:۹۴) لیکن عربی تاریخوں سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اس لیے اس کی صحت میں ہم کوتامل ہے؛ اسی سلسلہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ اگرمکہ میں یہود موجود ہوتے توقریش کا وفد مکہ کے یہودیوں کوچھوڑ کرمدینہ کے یہود کے پاس کیوں جاتا؛ جیا کہ ابن ہشام اور دوسرے ارباب سیر نے تصریح کی ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط وغیہ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں کچھ باتیں دریافت کرنے کے لیے مدینہ بھیجا تھا؛ چنانچہ مفسرین نے لکھا ہے کہ اصحاب کہف، روح اور ذوالقرنین کے سلسلے میں جوآیات نازل ہوئیں ان کا سبب نزول یہی واقعہ ہے، یہ ضرور ہے کہ اہلِ مکہ اور یہود میں گوناگوں تعلقات تھے، مکہ کے عکاظ اور مجنہ کے بازاروں میں یہودی تاجر اور کاہن شریک ہوتے تھے؛ جہاں کہانت کی شعبدہ بازیاں زیادہ تران ہی کے دم سے قائم تھیں، مکہ میں بعض یہودی غلاموں کا تذکرہ بھی ملتا ہے؛ پھرمکہ کے قریب ہی بنوکنانہ آباد تھے جن میں یہودیت موجود تھی، میں سمجھتا ہوں کہ ان کی وجوہ کی بناء پریہ خیال قائم کرلیا گیا کہ یہاں یہود موجود تھے؛ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے؛ البتہ طائف کے متعلق یہ کہنا صحیح ہے کہ یہاں قدیم زمانہ سے یہودیوں کی ایک نوآبادی موجود تھی، فتوح البلدان میں ہے: كان بمخلاف الطائف قوم من اليهود طردوا من اليمن ويثرب، فأقاموا بها للتجارة۔ (فتوح البلدان:۱/۶۶، شاملہ، موقع یعسوب۔دوسرا مطبوعہ:۶۳) طائف کے ایک حصہ میں یہودیوں کی آبادی تھی، جویمن ویثرب سے نکال دیے گئے تھے اور بسلسلۂ تجارت یہاں آکر آباد ہوگئے تھے۔ جب طائف پرمسلمانوں کا قبضہ ہوا تووہاں کے یہودیوں پرجزیہ لگایا گیا، بلاذری کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہاں کے بعض یہودیوں کی جائداد خریدی تھی۔ (فتوح البلدان:۶۳) اس سے زیادہ یہاں کے یہودیوں کے وجود کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔