انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** سلیمان بن حکم کی خلافت ان دونوں کے مقتول ہونے کی خبر سن کر ایک اموی شہزادہ سلیمان بن حکم اپنی جان بچاکر قرطبہ سے بھاگا،قرطبہ سے باہر بربری لوگ جمع ہورہے تھے اور اس کی فکر میں تھے کہ اب کس کو تخت خلافت کے لیے منتخب کیا جائے سلیمان بن حکم کو آتا ہوا دیکھ کر سب خوش ہوگئے اور اس کو خلیفہ بناکر مستعین باللہ کا خطاب دیا اور قرطبہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دی ،سلیمان بن حکم نے کہا کہ ہماری طاقتابھی اس قابل نہیں ہیں کہ قرطبہ کو فتح کرسکیں ،مناسب یہ ہے کہ طاقت کو اول بڑھایا جائے،یہ سوچ کر سلیمان بن حکم المخاطب بہ مستعین باللہ بربریوں کے لیے طلیطلہ پہنچا اور احمد بن نصیب کو اپنا وزیر اعظم بنایا اس کے بعد مستعین نے مدینہ سالم کے حاکم واضح عامری سے خط وکتابت کرکے اس کو اپنے ساتھ شامل کرناچاہا لیکن واضح عامری اس سے پیشتر خلیفہ مہدی کی بیعت کرچکا تھا لہذا اس نے صاف انکار کیا۔