انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** بکاء الراہب نام ونسب بکاء نام، شام اصلی وطن تھا، ایک گوشہ نشین اور تارک الدنیا بزرگ تھے، مشہور ہے کہ چالیس برس تک عبادت گاہ سے باہر قدم نہیں رکھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے؛ لیکن شرفِ زیارت سے مشرف نہ ہوسکے، ذیل کی روایت سے اس کی تفصیل معلوم ہوجائے گی۔ سعد بن العاص رضی اللہ عنہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا کہ میرے چچا ابان بن سعید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہمیشہ برا بھلا کہا کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ بغرضِ تجارت شام گئے، وہاں بکاء الراہب سے جوچالیس برس کے بعد عبادت گاہ سے نکلے تھے، ملاقات ہوئی؛ انھوں نے جاکر ان سے کہا کہ میری قوم کے ایک فرد نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، بکاء نے نام دریافت کیا، کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پھرپوچھا کتنے زمانہ سے وہ اپنے آپ کونبی کہتے ہیں، جواب دیا کہ بیس برس سے، اس کے بعد بکاء نے کہا کہ کہوتو میں ان کے صفات بیان کروں، ابان کہتے ہیں کہ انھوں نے ان کی تمام صفات بیان کیں اور ذرا غلطی نہیں کی، اس کے بعد کہا کہ خدا کی قسم وہ نبی برحق ہیں، اللہ تعالیٰ ان کوضرور غالب کرے گا، میرا سلام اُن کوپہنچادینا یہ کہہ کر وہ پھرگرجا میں چلے گئے۔ اس ملاقات کا یہ اثر ہوا کہ ابان جب مکہ واپس آئے توسب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات دریافت کیے اور بکاء سے ملاقات کا سارا واقعہ بیان کیا، اس کے بعد ابان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبرابھلا کہنا چھوڑ دیا اور پھرکچھ روز کے بعد مسلمان ہوگئے۔