انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا نام ونسب مشہور روایت کے مطابق یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں، جوسنہ۳۳ھ قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ نکاح پہلے ابولہب کے بیٹے (عتبہ) سے شادی ہوئی یہ قبل نبوت کا واقعہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی ابولہب کے دوسرے لڑکے عتبہ سے ہوئی تھی۔ اسلام جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے دعوتِ اسلام کا اظہار فرمایا توابولہب نے بیٹوں کوجمع کرکے کہا اگرتم محمد کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے توتمہارے ساتھ میرا اُٹھنا بیٹھنا حرام ہے، دونوں بیٹوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کردی۔ عام حالات نبوت کے پانچویں سال حضرت عثمان رصی اللہ عنہ نے حبش کی طرف ہجرت کی، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ گئیں، جب واپس آئیں تومکہ کی سرزمین پہلے سے زیادہ خونخوار تھی، چنانچہ دوبارہ ہجرت کی مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوان کا کچھ حال معلوم نہ ہوا، ایک عورت نے آکر خبردی کہ میں نے اُن دونوں کودیکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعادی اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بی بی کولیکر ہجرت کی ہے۔ (اسدالغابہ:۵/۴۵۷) اس مرتبہ حبش میں زیادہ عرصہ تک مقیم رہیں، جب یہ خبر پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں توچند بزرگ جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں مکہ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مدینہ منورہ کوہجرت کی، جہاں انہوں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام کیا۔ وفات سنہ۲ھ میں غزوۂ بدر کا سال تھا، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے دانے نکلے اور نہایت سخت تکلیف ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں بدر کی تیاریاں کررہے تھے، غزوہ کوروانہ ہوئے توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوتیمارداری کے لیے چھوڑدیا (بخاری:۱/۴۴۲) عین اسی دن جس دن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں آکر فتح کا مژدہ سنایا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے؛ لیکن جب واپس آئے اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تونہایت رنجیدہ ہوکر قبرپرتشریف لائے اور ارشاد فرمایا: عثمان ابن مظعون رضی اللہ عنہ پہلے جاچکے اب تم بھی ان کے پاس چلی جاؤ اس فقرہ نے عورتوں میں کہرام برپا کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوڑالے کر مارنے کے لیے اُٹھے آپ نے ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا: رونے میں کچھ حرج نہیں؛ لیکن نوحہ وبین شیطانی حرکت ہے، اس سے قطعاً بچنا چاہئے، سیدہ عالم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں، وہ قبر کے پاس بیٹھ کرروتی جاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے سے اُن کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔ اولاد حبش کے زمانۂ قیام میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا، جس کا نام عبداللہ تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ اسی کے نام پرتھی، چھ سال تک زندہ رہا، ایک مرتبہ ایک مرغ نے اس کے چہرہ پرچونچ ماری اور جاں بحق تسلیم ہوگیا، یہ جمادی الاوّل سنہ۴ھ کا واقعہ ہے، عبداللہ کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حلیہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا خوبرو اور موزوں اندام تھیں، زرقانی میں ہے: كَانَتْ بَارِعَةَ الْجَمَالِ۔ ترجمہ:وہ نہایت جمیل تھیں۔ (استیعاب:۲/۴۷۔ طبقات:۸/۲۴۔زرقانی:۳/۲۲۶)