انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** قسطنطنیہ پر حملہ امیر معاویہؓ اوررومیوں کی لڑائی میں قسطنطنیہ پر حملہ تاریخی اہمیت رکھتا تھااس زمانہ میں قسطنطنیہ کل مشرقی یورپ کا مرکز تھا، اس پر ضرب پڑنے سے پورے مشرقی یورپ پر اثر پڑتا تھا،امیر معاویہؓ کو بحری بیڑوں کا بڑا شوق تھا، ان کے اسی شوق کی بدولت ان کے عہد میں بحر روم اسلامی بیڑوں کا جو لانگاہ بن گیا تھا، امیر معاویہؓ یہ چاہتے تھے کہ بحرِ روم کے تمام جزائر پر قبضہ کرکے بحر روم کے اس حصہ کو جوانا طولیہ ،شام اور مصر سے گھرا ہوا ہے بلکل محفوظ کردیں، تاکہ افریقہ اورایشیا کے وہ مقبوضات جو بحر روم کے ساحلی علاقہ پر ہیں رومیوں کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ۴۹ ھ میں بڑے سازوسامان کے ساتھ ایک لشکر جرار سفیان بن عوف (طبری کے بیان کے مطابق یزید بن معاویہ اس فوج کا امیر تھا:۷/۸۶) کی ماتحتی میں قسطنطنیہ روانہ کیا اس میں حضرت ابو ایوب ؓانصاری عبداللہ بن عمرؓ اورعبداللہ بن عباسؓ جیسے اکابر صحابہ شامل تھےتاکہ آنحضرتﷺ کی اس بشارت کے مطابق کہ کیا اچھی وہ فوج ہوگی اورکیا اچھا وہ امیر ہوگا جو ہر قل کے شہر پر حملہ آور ہوگا ،قسطنطنیہ کے حملہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرسکیں، غرض یہ بیڑا بحر روم کی موجوں سے کھیلتا ہوا باسفور س میں داخل ہوا، قسطنطنیہ رومیوں کا بڑا اہم مرکز تھا، اس لئے ان لوگوں نےپوری مدافعت کی اورمسلمانوں سے بڑی زبردست جنگ ہوئی ،عبدالعزیز بن زرارہ کلبی کا جوشِ شہادت اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ رجز پڑہتے جاتے تھے اور شہادت کی تمنا میں آگے بڑہتے جاتے تھے؛ لیکن ناکام رہتے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ سعادتِ عظمیٰ رہی جاتی ہے تو بے دھڑک اپنے قریب کی رومی صف میں گھستے چلے گئے اور رومیوں نے نیزوں سے چھید کر شہید کردیا (ابن اثیر :۳/۱۸۲) حضرت ابو ایوب انصاری نے بھی اسی مہم میں وفات پائی، وفات سے پہلے یزید نے پوچھا کہ کوئی وصیت ہو تو ارشاد ہو اس کی تعمیل کی جائے ،فرمایا دشمن کی سرزمین سے جہاں تک لے جاسکو لیجا کر دفن کرنا؛چنانچہ وصیت پر عمل کیا گیا، اورمیزبانِ رسول ﷺ کی لاش رات کو مشعل کی روشنی میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے لے جاکر دفن کی گئی (استیعاب:۲/۶۳۸) صبح کو رومیوں نے پوچھا تم لوگ رات کو کیا کر رہے تھے؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ اپنے نبی کے ایک بڑے ساتھی کو دفن کررہے تھے؛ لیکن یہ یادرکھو کہ اگر تم نے قبر کھودی تو عرب میں کبھی ناقوس نہ بچ سکے گا، (اسد الغابہ:۵/۱۴۳،۱۴۴) قسطنطنیہ میں آج تک آپ کا مزار مبارک زیارت گاہ خلائق ہے،"ترجمان حقیقت" نے اسی تاریخی حقیقت کو ان اشعار میں بیان کیا ہے۔ تربتِ ایوُّب انصاری سے آتی ہے صدا اے مسلمان ملتِ اسلام کا دم ہے یہ شہر سینکڑوں صدیوں کے کشت و خون کا حاصل ہے یہ امیر معاویہؓ کے زمانہ میں کوئی سال رومیوں کے ساتھ نبرد آزمائی سے خالی نہیں گیا ،ہر موسم گرما میں جب موسم اعتدال پر ہوتا تھا مسلمان کبھی ایشیا اورکبھی یورپ میں ان سے مقابلہ کرتے تھے، ان کے عہد میں بحر روم کے متعدد جزیرے اسلام کے زیر نگین ہوئے۔