انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حج کے صحیح ہونے کی شرطیں warning: preg_match() [function.preg-match]: Compilation failed: regular expression is too large at offset 34224 in E:\wamp\www\Anwar-e-Islam\ast-anwar\includes\path.inc on line 251. جب تک مندرجہ ذیل شرطیں نہ پائی جائیں حج کی ادائیگی صحیح نہ ہوگی۔ (۱)احرام:لہذا حج کی ادائیگی بغیر احرام کے صحیح نہ ہوگی۔ حوالہ عن عُمَرَ بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاري بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ ۱) بند احرام کا مطلب میقات سے تلبیہ کے ساتھ حج کی نیت کرنا، اور مرد کے لئے سلے ہوئے کپڑوں کا نکال لینا اور بغیر سلے کپڑے پہن لینا ہے۔ اور مستحب یہ ہے کہ ایک لنگی اور چادر ہو۔ حوالہ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (بخاري بَاب مَا يُنْهَى مِنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ ۱۷۰۷)۔ اور تلبیہ یوں کہے:لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ،لَبَّیْکْ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ،اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَتَ لَکَ وَالْمُلْکْ لاَشَرِیْکَ لَکْ۔ حوالہ: (بخاري بَاب التَّلْبِيَةِ ۱۴۴۸)۔بند (۲) مخصوص وقت کا ہونا: لہذا حج کے مہینہ سے پہلے یا اس کے بعد حج کی ادائیگی درست نہ ہوگی۔ حوالہ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرة:۱۹۷) بند مسئلہ: حج کے مہینے: شوال، ذوقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں، لہذا جو شخص ان سے پہلے طواف کرے یا سعی کرے تو صحیح نہیں ہے۔ اَشہرِ حج سے پہلے کراہت کے ساتھ احرام صحیح ہوتا ہے۔ حوالہ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ السُّنَّةِ أَنْ لَا يُحْرِمَ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ (بخاري بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ﴾ ۴۶۱/۵) بند (۳) مخصوص جگہ کا ہونا: وہ وقوف کیلئے عرفات کی جگہ اور طواف زیارت کیلئے مسجد حرام ہے۔ مسئلہ: اگر وقوف کے وقت میں عرفہ کا وقوف فوت ہو جائے تو حج کی ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ، اسی طرح اگر وقوف عرفہ کے بعد طواف زیارت فوت ہو جائے تو حج کی ادائیگی صحیح نہیں ہوگی۔ حوالہ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ عَرَفَةُ (نسائي فَرْضُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ ۲۹۶۶) وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج:۲۹) بند