انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** امیر عبدالرحمن کی شہادت اس داروگیر میں امیر عبدالرحمن غافقی نے اپنے پیشروؤں کی سنت پر عمل کیا اور شمشیر بکف دشمنوں میں گھس کر سکیڑوں کو تہ تیغ کیا اور جسم پر سکیڑوں زخم کھاکر جام شہادت نوش کیا اس روز بھی صبح سے شام تک ہنگامہ کارزار گرم رہا تھا اور عبدالرحمن غافقی کی شہادت کے بعد ہی رات کی تاریکی نے لڑائی کو روک دی تھا ،بظاہر آج بھی عیسائی فتح مند تھے اور باوجود اس کہ کہ انہوں نے مسلمانوں کو نرغے میں لیاتھا،مگر شام کی شمشیر زنی کا نتیجہ یہ ہواکہ وہ خود ہی سمٹ کر پھر ایک طرف ہوگئے تھے اور مسلمانوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹاسکے تھے مگر خاتمۂ جنگ مسلمانوں کے لیے اندوہناک اور عیسائیوں کے لیے بےحد مسرت انگیز تھا مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار اور امیر کے شہید ہوجانے کے بعد اپنے آپ کو میدان میں قائم رکھنا مناسب نہ سمجھا اور وہ رات ہی کو وہاں سے کوچ کرگئے صبح کو جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے میدان کو خالی دیکھا تو انہوں نے بھی وہاں قیام مناسب نہ سمجھا مسلمانوں کا تعاقب کرنا تو بڑی بات تھی چارلس مارٹل نے اپنی داررالحکومت کی طرف واپس جانے میں اس لیے زیادہ عجلت سے کام لیا کہ کہیں مسلمان کمینگاہ میں چھپے نہ بیٹھے ہوں اور ایسا نہ ہوکہ ہم پر حملہ آور ہوکہ قیامت برپا کردیں اس لڑائی میں عیسائیوں کے لاتعداد آدمی مارےگئے اور سملمانوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان کا سپہ سالار کام آیابہر حال اس لڑائی کے بعد اس مہم کا خاتمہ ہوگیا اور مسلمان زیادہ ملک فتح نہ کرسکے اب چاہو تو اس کو مسلمانوں کی شکست تصور کرلو چاہو برابر کی زور آمائی قرار دے لو چاہو تو عیسائیوں کی شکست تصور کرلو یہ لڑائی ۱۱۴ھ میں واقع ہوئی۔