انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** علم الکتاب اورعلم الآثار دونوں کا مبدا ذات الہٰی ہے علم الکتاب اور علم الآثار ہمیشہ سےپیغمبرانہ تعلیم کے دو ماخذ رہے ہیں؛ جس طرح علم الکتاب کا مبدا اللہ تعالی کی ذات ہے اسی طرح علم الآثار کا مبدا بھی اللہ رب العزت کی ہی ذات ہے اور جس طرح علم الکتاب معصوم ہے،یعنی خدائی حفاظت میں ہے کہ اس میں آگے پیچھے کسی طرف سے باطل کو راہ نہیں، اسی طرح علم الآثار بھی محفوظ ہے اوربغیر اس کے قرآن کریم کا محفوظ ہونا بے معنی رہ جاتا ہے، اس وعدہ حفاظت کے تحت یہ نہیں ہوسکتا کہ دین کی کسی بات کو غلطی ہر طرف سے گھیر لے اوراس کا حاصل کلیۃً بدل جائےیا مٹ جائے، اگر ایک طرف سے اس میں غلطی راہ پکڑتی ہے تو دوسری طرف سے اس پر پوری گرفت بھی ہوجاتی ہے اور دین میں داخل ہونے والی ہر نئی بات پر موأخذہ بھی ہوتا رہتا ہے اورساتھ ساتھ ہی اس کا انسداد بھی ہوتا رہتا ہے، علماءسو جب بھی دین کو بدلنے لگتے ہیں تو علماء حق فوراً ان کو ٹوکنے کھڑے ہوجاتے ہیں،یوں سمجھئے کہ وہ اس وقت دین کی حفاظت کے ارادہ الہٰیۃ کے لیے بمنزلہ آلہ اوراسباب کے استعمال ہوجاتے ہیں، سو دین مجموعی طورپر معصوم رہتا ہے، بے شک اس کی مجموعی حفاظت کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے اورہم اللہ تعالی کے اسی وعدہ پر ہیں، اللہ تعالی ہر ضرورت کے وقت اس وعدہ کو پورا فرماتے ہیں: "إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ" میں قرآن کریم کو لفظ ذکر سے یاد کرنے کی ایک یہ بھی حکمت تھی کہ یہ حفاظت صرف لفظا نہیں ذکراً بھی موعود ہے اور کتاب ا لہٰی لفظاً ومعنیً ہرپہلو سے محفوظ ہے۔