انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** عام صحابیات رضی اللہ عنھن حضرت اُمامہ رضی اللہ عنہا نام ونسب حضرت ابوالعاصؓ بن ربیع کی صاحبزادی ہیں، جوزینبؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن سے پیدا ہوئیں، آبائی شجرۂ نسب یہ ہے، امامؓہ بنت ابوالعاصؓ بن ربیع بن عبدالعزیٰ بن عبد شمس بن عبدمناف۔ عام حالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امامہ رضی اللہ عنہا سے نہایت محبت تھی، آپ ان کواوقاتِ نماز میں بھی جدا نہیں کرتے تھے، صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں امامہ رضی اللہ عنہا کوکندھے پرچڑھائے ہوئے تشریف لائے اور اسی حالت میں نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے توان کواُتاردیتے؛ پھرجب کھڑے ہوتے توچڑھالیتے اسی طرح پوری نماز ادا فرمائی . (صحیح بخاری:۱/۷۴۔ زرقانی:۳/۲۵۵) اللہ اکبر!۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کسی نے کچھ چیزیں ہدیہ میں بھیجیں جن میں ایک زریں ہار بھی تھا، امامہ رضی اللہ عنہا کوبلاکر وہ ہار خود ان کے گلے میں ڈال دیا، بعض روایتوں میں ہار کی بجائے انگوٹھی کا ذکر ہے (زرقانی:۳/۲۲۵، بروایت مسند ابن حنبل) اور اس میں ہدیہ بھیجنے والے کا نام بھی آگیا ہے یعنی نجاشی۔ (طبقات ابن سعد:۸/۲۷) نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سن شعور کو پہنچ چکی تھیں، اس لیے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انتقال فرمایا توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے امامہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرلیا، ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ابن عوام کوجوعشرۂ مبشرہ میں داخل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی تھے امامہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی وصیت کی تھی؛ چنانچہ یہ تقریب ان ہی کی مرضی سے انجام پائی اور نکاح بھی خود انہی نے پڑھایا، یہ سنہ۱۱ھ کا واقعہ ہے۔ سنہ ۴۰ھ میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی تومغیرہ بن نوفل (عبدالمطلب کے پڑپوتے) کووصیت کرگئے کہ اُمامہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرلیں؛ چنانچہ مغیرہ نے تعمیل کی، اس کے قبل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچا تھا اور انہوں نے مروا ن کولکھا تھا کہ ایک ہزار دینار (پانچ ہزار روپے) اس تقریب میں خرچ کئے جائیں؛ لیکن امامہ رضی اللہ عنہا نے مغیرہ کواطلاع دی توانہوں نے فوراً حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اجازت سے نکاح پڑھ لیا۔ (طبقات:۸/۲۷۔ اسدالغابہ:۵/۴۰۰) وفات حضرت امامہ رضی اللہ عنہا نے مغیرہ کے ہاں وفات پائی۔ (اصابہ:۸/۱۴) اولاد مغیرہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام یحییٰ تھا؛ لیکن بعض روایتوں میں ہے کہ امامہ رضی اللہ عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی