انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** کوفہ کا مدرسہ حدیث کوفہ میں آپ نے اپنی مسندِ علمی لگائی، آپ کے تلامذہ میں ایسے ایسے جبالِ علم اُبھرے کہ اِن سے استفادہ کرنے کے لیےبعض دفعہ اصحابِ رسولﷺ بھی حاضر ہوتے؛ پھرحضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں کوفہ کواپنا مرکز بنایا اور اس علاقے کواور علمی جِلابخشی، حضرت امام ابوحنیفہؒ (۱۵۰ھ)، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اِسی علمی مسند کے وارث تھے، حضرت امام سفیان ثوریؒ (۱۶۱ھ) بھی اِسی سرزمین کے تھے، کوفہ اسلامی دنیا میں ایک عظیم مرکزِ علم بن گیا تھا، حضرت امام نوویؒ (۶۷۶ھ) کوفہ کو "دارالفضل ومحل الفضلاء" (شرح صحیح مسلم للنووی:۱/۱۸۵) کہہ کر ذکر کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں کی بدولت وہاں سینکڑوں مدارس حدیث قائم ہوئے، حضرت حذیفہؓ نے اس کی علمی شان سے متأثر ہوکر فرمایا: "أَلْکُوْفَۃُ قُبَّۃُ الْإِسْلَام" (مستدرک حاکم:۳/۸۹) مشہورتابعی قتادہ بن دعامہؒ (۱۱۸ھ) کہتے ہیں کہ کوفہ میں پندرہ سوصحابہؓ کاقیام تھا، جن میں سے چوبیس بدری (کتاب الاسماء والکنٰی للدولابی:۱/۱۷۴) تھے، امام محمد بن سیرین تابعیؒ (۱۱۰ھ) کہتے ہیں: جب میں کوفہ پہنچا تووہاں چار ہزار طلبۂ حدیث پڑھ رہے تھے۔ (تدریب الراوی:۲۷۵)