انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** اسلام میں صدقہ وخیرات کرنے کی فضیلت صدقہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ مقررہ زکوٰۃ (فاضل سرمایہ کا چالیسواں حصہ) ادا کردینے کے بعد آدمی پر اللہ کا کوئی مالی حق اور مطالبہ باقی نہیں رہتا اور وہ اس سلسلہ کی ہرقسم کی ذمہ داریوں سے بالکل سبکدوش ہوجاتا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ خاص حالات میں زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد کی ذمہ داری دولت مندوں پر باقی رہتی ہے، مثلاً ایک صاحبِ ثروت آدمی حساب سے پوری زکوٰہ ادا کرچکا ہو اس کے بعد اسے معلوم ہوکہ اس کے پڑوس میں فاقہ یا اس کا فلاں قریبی رشتہ دار سخت محتاجی کی حالت میں ہے یاکوئی شریف مصیبت زدہ مسافر ایسی حالت میں اس کے پاس پہنچے جس کو فوری امداد کی ضرورت ہو تو ایسی صورتوں میں ان ضرورتمندوں، محتاجوں کی امداد اس پر واجب ہوگی۔ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی (اللہ کا) حق ہے؛ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَاعٰھَدُوْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط أُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَo"۔ (البقرۃ:۱۷۷) ترجمہ:"کچھ سارا کمال اسی میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یامغرب کو لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو"الخ۔ (ترمذی، باب ماجاء ان فی المال حقا سوی الزکاۃ، حدیث نمبر:۵۹۵۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۷۷۹۔ دارِقطنی، حدیث نمبر:۱۹۷۶) رسول اللہ ﷺ نے اپنی بات کے لیے بطورِ استشہاد سورۂ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات تلاوت فرمائی اس آیت میں نیکی کے کاموں کے ذیل میں ایمان کے بعد یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں وغیرہ حاجت مند طبقوں کی مالی مدد کا ذکرکیا گیا ہے، اس کے بعداقامت الصلاۃ اور اداء زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان کمزور اور ضرورت مند طبقوں کی مالی مدد کا جو ذکر یہاں کیا گیا ہے وہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے؛ کیونکہ زکوٰۃ کا مستقلاً ذکر اس آیت میں آگے موجود ہے۔ فضیلتِ صدقہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہربندے کو اللہ کا پیغام ہے کہ اے آدم علیہ السلام کے فرزند! تو (میرے ضرورت مند بندوں پر) اپنی کمائی خرچ کر، میں اپنے خزانہ سے تجھ کو دیتا رہوں گا۔ (بخاری، باب فضل النفقۃ علی الاھل، حدیث نمبر:۴۹۳۳، مسلم، حدیث نمبر:۱۶۵۸) گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے کہ جو بندہ اس کے ضرورت مند بندوں کی ضرورتوں پر خرچ کرتا رہیگا اس کو اللہ تعالیٰ کے خزانۂ غیب سے ملتا رہیگا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اللہ کے بھروسہ پر اس کی راہ میں کشادہ دستی سے خرچ کرتی رہو اور گنومت (اس فکر میں نہ پڑو کہ میرے پاس کتنا ہے اور اس میں کتنا راہِ خدا میں دوں) اگر تم اس کی راہ میں اس طرح حساب کرکے دوگی تو وہ بھی تمہیں حساب ہی سے دیگا (اور اگر بے حساب دوگی تو وہ بھی اپنی نعمتیں تم پر بے حساب انڈیلے گا) اور دولت جوڑ جوڑ کر اور بند کرکے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ یہی معاملہ کریگا (کہ رحمت اور برکت کے دروازے تم پر خدا نخواستہ بند ہوجائیں گے) لہٰذا تھوڑا بہت کچھ ہوسکے اور جس کی توفیق ملے راہِ خدا میں کشادہ دستی سے دیتی رہو۔ (بخاری، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا، حدیث نمبر:۲۴۰۲، مسلم، حدیث نمبر:۱۷۰۹) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام کے فرزندو! اللہ کی دی ہوئی دولت جو اپنی ضرورت سے فاضل ہو اس کا راہِ خدا میں صرف کردینا تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کا روکنا تمہارے لیے برا ہے اور ہاں! گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہو۔ (مسلم، باب بیان أن الید العلیا خیر من الید السفلی، حدیث نمبر:۱۷۱۸۔ ترمذی، حدیث نمبر:۲۲۶۵) اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جو دولت وہ کمائے یاکسی ذریعہ سے اس کے پاس آئے اس میں سے اپنی زندگی کی ضروت کے بقدر تو اپنے پاس رکھے باقی راہِ خدا میں اس کے بندوں پر خرچ کرتا رہے اور اس پر پہلا حق ان لوگوں کا ہے جن کا اللہ نے اس کو ذمہ دار بنایا ہے اور جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے، مثلاً اس کے اہل وعیال اور حاجت مند قریبی اعزہ وغیرہ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بکری ذبح کی گئی (اور اس کا گوشت للہ تقسیم کردیا گیا، رسول اللہؐ تشریف لائے اور) آپ نے دریافت کیا: بکری میں سے کیا باقی رہا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: صرف ایک شانہ اس کا باقی ہے (اس کے علاوہ سب ختم ہوگیا) آپ ﷺ نے فرمایا: اس شانہ کے علاوہ جو لِلّٰہ تقسیم کردیا گیا دراصل وہی سب باقی ہے اور کام آنے والا ہے (آخرت میں انشاء اللہ اس کا اجر ملے گا)۔ (ترمذی، باب منہ بعد باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۳۹۴۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۲۴۲۸۶)