انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** دروغ گورا حافظہ نباشد (جھوٹے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے) یہی تمنا صاحب جویہاں کتابتِ حدیث کا اقرار کرچکے ہیں، دوسری جگہ لکھتے ہیں: "یہ سب من گھڑت افسانے ہیں، دراصل کسی صحابیؓ نے حدیثوں کا کوئی مجموعہ مرتب نہیں کیا تھا؛ اگردوچار حدیثیں بھی کوئی صحابی کسی ورق پر لکھ لیتے تووہ ورق تبرک کے طور سے ضرور محفوظ رکھا جاتا"۔ (اعجاز القرآن:۱/۷۳، مولف:مولانا تمنا عمادی) احادیث کوتوان لوگوں نے اس طرح مشتبہ کردیا، باقی رہا قرآن توقرآن کریم کی تفسیر میں اگرکوئی بات حضورﷺ سے یاصحابہؓ سے نقل ہوئی کتابوں میں ملی تواسے ان لوگوں نے جودین سے مکمل آزادی حاصل کرنے کی تمنالیئے ہوئے تھے اور پادری عماد الدین کے حلقے سے تعلق رکھتے تھے اس طرح ناقابل اعتبار بنادیا، تمنا عمادی کی جرأت ملاحظہ ہو: "راویانِ احادیث تفسیر میں جولوگ زیادہ پیش پیش تھے تقریباً سب کے سب ناقابل اعتبار اور اس جماعت میں وضاعین وکذابین کی ایک بہت بڑی اکثریت کارفرمارہی، مفسرین متقدمین نے ہرآیت کے متعلق متضاد ومتخالف روایتیں جھوٹی سچی ہرطرح کی حدیثیں اور ہرطرح کے اقوال جمع کرکے آیاتِ قرآنی کے معانی کومشتبہ کردیا"۔ (اعجاز القرآن:۱/۹، مولف:مولانا تمنا عمادی) "ماہنامہ طلوع اسلام" ستمبر سنہ۱۹۵۰ء کی اشاعت میں اُن کا ایک مضمون شائع ہوا جوحدیث کے بارے میں اُن کے نظریات کی پوری وضاحت کرتا ہے، تمنا صاحب لکھتے ہیں: "اور منافقین عجم نے اپنے مقاصد کے ماتحت جمع احادیث کا کام شروع کرنا چاہا توانہیں منافقین عجم کے آمادہ کرنے سے اس وقت خود ابنِ شہاب کوخیال ہوا کہ ہم حدیثیں جمع کرنا شروع کردیں؛ تویہ مدینہ پہنچے اور کوفہ بھی اور مختلف مقامات سے حدیثیں حاصل کیں اور بیسیوں راویوں کے ساتھ رہے"۔ (طلوعِ اسلام:۴۸، ستمبر سنہ۱۹۵۰ء) اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ ابنِ شہاب زہری (۱۲۴ھ) نے حضرت عمربن عبدالعزیز کے حکم سے حدیث لکھنی شروع کی تھی، صالح بن کیسان (۱۴۲ھ) بھی آپ کے ساتھ تھے؛ مگرتمنا صاحب کا شوقِ تحقیق دیکھئے، کس وضاحت سے اسے عجمی سازش کہہ رہے ہیں، لکھتے ہیں: "انہیں منافقین عجم کی ایک جماعت نے اپنا رسوخ فی الدین اور ظاہری زہدوتقویٰ دکھاکر ابنِ شہاب زہری کوجمع احادیث پرآمادہ کیا، یہ اپنے تجارتی وزراعتی کاروبار کی وجہ سے اپنے وطن مقام ایلہ میں رہاکرتے تھے؛ مگرایک بہت بڑی دینی خدمت سمجھ کراس مہم پرآمادہ ہوگئے..... اور وہی منافقین خود بھی پھراُن کے پاس آ آکرحدیثیں لکھوانے لگے اور دوسرے وضاعین اور کذابین کوان کے پاس بھیج کراُن سے بھی حدیثیں ان کے پاس جمع کرنے لگے"۔ (طلوعِ اسلام:۵۴، ستمبرسنہ۱۹۵۰ء)