انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
امام ِمسجد کا کرکٹ کھیلنا اور اس سے دلچسپی رکھنا کیسا ہے؟ موجودہ زمانہ میں کرکٹ ایک ایسا کھیل بن گیا ہے کہ عموماً اس میں خلاف شرع امور پائے جاتے ہیں، نمازوں کا قضاءکردینا ، اس پر ہار جیت اور قمار کھیلنا، فجار اور فسّاق اور غافل قسم کے لوگوں کا اُسے اختیار کرنا، غفلت کی حد تو یہ ہوچکی ہے کہ دن تو دن اب تو راتوں میں بھی اس میں انہماک رہتا ہے، کرکٹ میچ کے وقت نوجوان لڑکیو ں اور عورتوں کا میدان میں جمع ہونا اور نہ معلوم کون کون سی اخلاقی اور شرعی خرابیاں اس میں آچکی ہیں اور تجربہ ہے کہ جس قدر اس کا شوق اور انہماک بڑھتا ہے غفلت میں اسی قدر اضافہ ہوتا رہتا ہے، رات دن بس اسی کی فکر سوار رہتی ہے، حتی کہ مسجد میں آنے کے بعد وضو کرتے ہوئے ، وضو سے فارغ ہوکر اور بہت سے شوقین تو جماعت خانہ میں بھی اسی کے چرچے میں مشغول رہتے ہیں، حد یہ ہے کہ اگر کسی موقع پر رمضان المبارک میں تراویح کے وقت میچ کی کومنٹری آرہی ہو تو اس کے بہت سے شوقین تو اس پر تراویح کو قربان کرتے ہیں اور جو شوقین مسجد میں آئے ہیں ان کی توجہ اور دھیان بس اسی طرف، ترویحوں میں تسبیح کے بجائے یہی فکر سوار رہتی ہے کہ میچ کا حال معلوم کیا جائے، ہار جیت پر پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں، جس میں غیر قوم سے مشابہت کے ساتھ ساتھ اضاعتِ مال بھی ہے اور بسا اوقات یہ حرکت قومی فساد کا سبب بھی بن جاتی ہے اور مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہوتا ہے، ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایسے کھیل کو اب کس طرح جائز کہا جاسکتا ہے؟ چنانچہ مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "آج کل چونکہ عموماً یہ شرائط (جن کا بیان فتاویٰ دار العلوم کے حوالہ سے مذکور ہوا) موجودہ کھیلوں (ٹینس، فٹبال، کرکٹ) میں موجود نہیں اس لئے ناجائز کہا جاتا ہے..... الخ (فتاویٰ دار العلوم قدیم ص:۲۸۵، ج:۷،۸، امداد المفتیین) لہٰذا ایسا شخص جو امامت کے عظیم منصب پر فائز ہو اس کو اس قسم کے بدنام اور بیکار اور لغو کھیل میں مشغول ہونا ، اس سے دلچسپی رکھنا، کمینٹری سننا قطعاً اس کے شایانِ شان نہیں، غافلوں کے ساتھ تشبیہ بھی لازم آتی ہے اور لوگوں کی نظروں میں امام کا وقار بھی کم ہوجاتا ہے، اگر ورزش اور بدن کی تقویت مقصود ہو تو دوسرے جائز طریقے اختیار کئے جائیں، اگر کوئی شحص کرکٹ میں اس قدر منہمک رہتا ہو کہ نماز قضاء اور جماعت فوت ہوتی ہو تو پھر ایسا کھیل بالکل ناجائز اور موجب فسق ہوگا اور ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہوگا۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۴/۱۹۴، مکتبہ دارالاشاعت، کراچی)