انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** نیچریوں کا انکار اس تحریک کے بانی سرسیداحمد خان تھے، اُن کے شاگرد نواب اعظم یارجنگ مولوی چراغعلی (۱۸۹۵ء) جیسے لوگ ایک مستقل فکری حلقہ بناچکے تھے، تیرہویں صدی کے آخر میں یہ معتزلہ کی نشاۃ جدید تھی، ان کا انکار بھی علمی شبہات کی اوٹ میں پروان چڑھا، انکارِ حدیث کا عنوان انہوں نے بھی اختیار نہ کیا تھا؛ پھریہ بھی یاد رہے کہ مسلمانوں نے اگرکچھ سرسیدکاساتھ دیا تووہ اُن کی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے تھا، مذہبی پہلو سے وہ اُن کے ساتھ نہ تھے، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ایک مقام پرلکھتے ہیں: "پہلی تحریک علی گڑھ سے اُٹھی، جس کے محرک سرسیداحمد خان مرحوم تھے، یہ تحریک انگریزی تعلیم کی ترقی کے لیئے تھی، اس لیئے مسلمان اس کے حامی کار ہوئے؛ مگرسرسیدمرحوم نے مسلمانوں کے عقائد میں دخل دینا شروع کیا توبگاڑ شروع ہوگیا"۔ (مولانا مودودی سے خطاب) سرسیداور ان کے حلقۂ فکر میں اسلام کسی قسم کی نشوونما پارہا تھا یاانگریزی سلطنت کے سایہ تلے پورے اسلام کی بیخ کنی ہورہی تھی؟ اس سوال کا جواب مولوی چراغ علی صاحب کی اس صاف گوئی سے ملتا ہے: "مردم شماری ہوئی توانہو ں نے مذہب کے خانہ میں اپنی بیوی کے نام کے سامنے لفظ شیعہ لکھ دیا؛ لیکن انپے اور اپنے بیٹوں کے نام کے مقابل صفر، صفر لکھ دیئے"۔ (چندہمعصر ڈاکٹرمولوی عبدالحق:۴۷، طبع: سنہ۱۹۵۰ء انجمن ترقی اردو، پاکستان) جہاں تک ان کے کسی مکتبِ فکر یامسلک کا تعلق تھا، حق یہ ہے کہ وہ صفر ہی تھا، احادیث کوچھوڑ کرجومسلک قائم ہوگا وہ صفر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔