انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** چنگیز خاں کا خواب اسی حالت میں تموچین نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے دونوں ہاتھوں میں تلواریں ہیں، جب اُس نے اپنے دونوں ہاتھ مشرق و مغرب کی طرف پھیلائے تو دونوں تلواروں کے سرے افق مشرق اورافق مغرب تک پہنچ گئے یہ خواب اُس نے اپنی ماں سے بیان کیا تو اُس کو یقین ہوگیا کہ میرا یہ بیٹا مشرق ومغرب کے تمام لوگوں کو آگاہ کرے گا اوراس کے ہاتھ سے بڑی خوں ریزی ہوگی،اسی طرح اُس کی ماں کو معلوم تھا کہ پیدا ہونے کے وقت تموچین کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند تھیں، اُن کو کھول کر دیکھا تو اُس کے دونوں ہاتھوں میں منجمد خون تھا، اس منجمد خون کو دیکھ کر اُس وقت بھی سب نے یہی رائے قائم کی تھی کہ یہ لڑکا بڑاخوں ریز ہوگا، لوگوں کی سرکشی یہاں تک پہنچی کہ سوائے ایک شخص امیر اراچا کےجو قاچولی بہادر کی اولاد سے تھا باقی تمام اولاد قاچولی بہادر کی بھی تموچین سے باغی ہوگئی، تموچین نے اپنے ملک کے متصلہ ملک کے فرماں روا سے جس کا نام اونگ خان تھا امداد چاہی اوراُس کی پناہ میں خود چلا گیا،اونگ خان نے تموچین کی خوب خاطر مدارات اور تسلی وتشفی کی اوراپنے بیٹوں کی طرح اُس کی خبر گیری کرنے لگا،مگر چند روز کے بعد کچھ جمعیت بہم پہنچا کر چنگیز خاں نے اپنے اس محسن اورنگ خاں کے خلاف کاروائی شروع کی اوراپنے ساتھیوں کو لے کر ایک درہ میں مضبوط ہو بیٹھا اوراپنی مخالفت کا اعلان کیا،آخر لڑائی ہوئی،اس لڑائی میں اتفاقاً امیر قراچار کے تیر سے اورنگ خانہ سخت زخمی ہوکر منہزم ہوا اورایک دوسرے سردار یانگ خان نے بحالت فرار اس کو قتل کرادیا، اب توقع یہ تھی کہ یانگ خان اور تموچین کے درمیان صلح رہے گی؛ کیونکہ اورنگ خان کو قتل کرکے یانگ خان نے تموچین کی امداد کی تھی، مگر چنگیز خان نے اس فتح کے بعد اپنے گرد بہت جلد قبائل کو جمع کرلیا اور لوگوں نے اس کو بہادر دیکھ کر بخوشی اس کی سرداری تسلیم کرنی شروع کی، ایک شائستہ جمعیت لے کر چنگیز خاں نے یانگ خان کے علاقہ پر فوج کشی شروع کردی،لڑائی میں یانگ خاں بھی مقتول ہوا اور چنگیز خان نے ایک وسیع مملکت پر قبضہ کرلیا،ان فتوھات کے بعد یکایک تموچین قبائلِ مغلیہ کا مرجع ومرکز بن گیا، اوراُس کی طاقت مغولستان کے قاآن اکبر کی مد مقابل بن گئی۔