انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** زفر بن حرث اور عبدالملک محاصرہ قرقیسا کا حال اوپر مذکورہ ہوچکا ہے، عبیداللہ بن زیاد اور دوسرے سردار زفربن حرث کومغلوب نہیں کرسکے اور ہرایک حملہ میں اہلِ شام کوناکامی حاصل ہوئی، اب جب کہ عبدالملک بن مروان فوج لے کرعراق کی طرف متوجہ ہوا تھا توا سنے اپنی روانگی سے پیشتر ابان بن ابی معیط گورنرحمص کوایک فوج دے کرآگے روانہ کردیا تھا کہ قرقیسا میں پہنچ کرزفربن حرث کومغلوب کرے، ابان نے پہنچ کرلڑائی چھیڑدی مگرابھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے پایا تھا کہ خود عبدالملک بھی مع فوج گراں پہنچ گیا اور بڑی سختی سے قرقیسا کا محاصرہ شروع کیا، زفربن حرث نے اپنے بیٹے ہذیل کوحکم دیا کہ اہلِ شام پردھاوا کرے اور جب تک عبدالملک کے خیمہ کونہ گرالو واپس نہ آؤ، ہذیل نے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور اس سختی سے حملہ کیا کہ عبدالملک کے خیمے کوجاکرگرادیا اور واپس چلا آیا، عبدالملک نے یہ دیکھ کرکہ قرقیسا کی فتح اور زفر بن حرث کا مغلوب کرنا آسان نہیں ہے، زفربن حرث کے پاس پیغام بھیجا کہ تم کواور تمہارے لڑکے کوامن دی جاتی ہے اور جوعلاقہ یاعہدہ تم پسند کرووہ لے لو۔ زفر بن حرث نے کہلا بھجوایا کہ میں اس شرط پرصلح کرنے کوتیار ہوں کہ ایک سال تک مجھ سے بیعت کرنے کی خواہش نہ کی جاے اور عبداللہ بن زبیر کے خلاف کسی قسم کی اعانت طلب نہ کی جائے، قریب تھا کہ صلح نامہ تحریر ہو، اتنے میں عبدالملک کویہ خبر پہنچی کہ شہر پناہ کے چار برج منہدم ہوچکے ہیں، عبدالملک نے فوراً صلح سے انکار کرکے شہر پرحملہ کیا؛ مگریہ حملہ سراسر ناکام رہا اور زفر بن حرث نے عبدالملک کی فوج کوپسپا کرکے اس کے مورچوں میں پہنچا دیا، عبدالملک نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ ہم آپ کی تمام شرائطوں کومنظور کرتے ہیں، زفر بن حرث نے کہا کہ میں عبداللہ بن زبیر کی زندگی میں کسی دوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ کروں گا؛ نیز یہ وعدہ بھی لوں گا کہ مجھ سے اور میرے ہمراہیوں سے کسی قسم کا کوئی مواخذہ یاقصاص طلب نہ کیا جائے۔ عبدالملک نے سب کچھ منظور کرلیا اور عہد نامہ لکھ کربھیج دیا؛ تاہم زفر بن حرث عبدالملک کے پاس نہیں آیا؛ کیونکہ عمروبن سعید کا واقعہ سب کومعلوم تھا، آخر عبدالملک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا جواس کے پاس تھا زفر بن حرث کے پاس بھیج دیا، زفر بن حرث اس کوکافی ضمانت سمجھ کرفوراً عبدالملک کے پاس چلا آیا، عبدالملک نے زفربن حرث کواپنے برابر تخت پرجگہ دی اور بڑی عزت وتکریم سے پیش آیا اور اپنے بیٹے مسیلمہ بن عبدالملک سے زفر بن حرث کی لڑکی کا عقد کیا؛ یہاں سے فارغ ہوکر مصعب بن زبیر کی طرف بڑطا تھا۔