انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** خلافت وملوکیت کےمتعلق خلافت کی ترتیب ابن حبان نبی کریمﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی اور اس کی بنیاد کھودی گئی تو آپﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے ایک پتھر اس مسجد کی بنیاد میں رکھا، پھر حضرت ابوبکرؓ کو حکم دیا کہ تم اپنا پتھر میرے پتھر کے پاس رکھو؛چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنا پتھر حضورﷺ کے برابر رکھا ،پھر آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا اور حضرت عمرؓ نے اپنا پتھر حضرت صدیق اکبر ؓکے پتھر کے قریب رکھا ،پھر آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو حکم دیا کہ تم اپنا پتھر بنیاد میں حضرت عمر ؓکے پتھر کے برابر رکھدو ،پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا یہ لوگ خلیفہ ہوں گے چنانچہ اسی کے مطابق واقع ہوا اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں بھی روایت کیا ہے۔ اس ترتیب خلافت کی بعض اور روایتیں بھی مؤید ہیں ؛چنانچہ حاکم نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے قبیلۂ بنی المصطلق کے بعض حضرات نے حضورﷺ کی خدمت میں یہ پیام دے کر بھیجا کہ آپ ﷺ سے دریافت کروں کہ ہم آپﷺ کے بعد اپنے صدقات کس کے پاس لائیں ؛چنانچہ حضرت انسﷺ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ سوال آپﷺ کے روبرو پیش کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد اپنے صدقات ابوبکرؓ کی خدمت میں پیش کرو؛ چنانچہ یہ جواب میں نے بنی المصطلق کے لوگوں کو سنادیا، انہوں نے پھر کہا اب یہ دریافت کرو کہ حضرت ابوبکر ؓکو کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر ہم اپنے صدقات کس کی خدمت میں پہنچائیں،چنانچہ میں نے پھر حضورﷺ سے دریافت کیا آپﷺ نے فرمایا حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش کریں ،میں نے بنی المصطلق کے لوگوں کو جواب دیا ،انہوں نے مجھ کو پھر حضورﷺ کی خدمت میں بھیج کر یہ دریافت کیا کہ اگرحضرت عمر ؓکو بھی کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر ہم اپنے صدقات کس کی خدمت میں لے جائیں ؛چنانچہ میں نے حاضر ہوکر دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا حضرت عثمانؓ کی خدمت میں پیش کریں ،میں نے یہی جواب بنی المصطلق کے لوگوں کو سنادیا ،انہوں نے پھر مجھ کو لوٹایا اور کہا یہ جاکر حضورﷺ سے دریافت کرواگر حضرت عثمان بھی کسی حادثے کا شکار ہوجائیں تو حضرت عثمان کے بعد کس کی خدمت میں صدقات لے کر حاضر ہوں، میں پھر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا اگر عثمان کو بھی کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر تمہارے لیے ہمیشہ کو خرابی ہے خرابی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابن عمر ؓسے صحیحین میں منقول ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک دفعہ اپنا خواب بیان فرمایا، آپﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنوئیں پر ہوں ،کنوئیں پر ایک ڈول ہے ،میں نے اس کنوئیں سے جس قدر خدا کو منظور تھا پانی کھنچا پھر اس ڈول کو ابوبکر ؓنے مجھ سے لیا اور اس کنوئیں میں سے ایک ڈول یا دوڈول آہستگی کے ساتھ نکالے ،پھر وہ ڈول بہت بڑا ہوگیا تو اس کو عمرؓ نے لے لیا اور میں نے قوی جوان ان سے بہتر پانی نکالنے والا نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگ خوب سیر ہوگئے اور کنویں کے چاروں طرف لوگ جمع ہوگئے۔ اس قسم کی ایک روایت ابوداؤد اور حاکم نے جابر بن عبداللہ سے کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کے ایک مرد صالح نے یہ خواب دیکھا کہ ابوبکر ؓمعلق کیے گئے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور ابوبکر کے ساتھ عمرؓ اور عمرؓ کے ساتھ عثمان معلق کیے گئے ،پھر جب ہم سب آپﷺ کی خدمت سے اٹھے تو ہم نے آپس میں کہا کہ یہ خواب خود رسول اللہﷺ نے دیکھا ہے، آپﷺ کے ساتھ معلق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے بعد ملک کے والی اور آپ کے نائب ہوں گے اور جس کام کے لیے اللہ تعالی نےآپﷺ کو بھیجا ہے اس کام کے یہ والی بنائے جائیں گے۔ حاکم نے حضرت سفینہؓ سےروایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ کی عادت یہ تھی کہ صبح نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں سے دریافت فرماتے تھے کہ تم نے کوئی خواب دیکھا ہوتو بیان کرو ایک دن اتفاق سے جب آپﷺ نے دریافت کیا توایک شخص نے عرض کیایا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اتری اس کے ایک پلہ میں آپ کو رکھا گیا اور دوسرے پلے میں ابوبکر کو رکھاگیا مگر آپ کا پلا بھاری رہا ،پھر ابوبکر کے ساتھ عمر کو رکھاگیا تو ابوبکر کا پلہ بھاری رہاپھر عمر کے ساتھ عثمان کو رکھاگیا تو عمر کا پلہ بھاری رہا،اس کے بعد وہ ترازو اٹھالی گئی، اس شخص کا خواب سن کر نبی کریمﷺ کے چہرۂ مبارک پرکچھ تغیر کے اٰثار ظاہر ہوئےاور آپ نے فرمایا کہ خلافت تیس سال رہےگی ،اس کے بعد بادشاہت اور ملوکیت ہوجائےگی مطلب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے نےترازو دیکھی حضورﷺ کو پہلے ابوبکر کے ہمراہ تولاگیا پھر ابوبکر کو عمر کے ہمراہ تولاگیا پھر عمر کو عثمان کے ہمراہ تولاگیا حضور اکرمﷺ نے یہ بات سن کر خلافت اور بادشاہت کی بات فرمائی، اس حدیث کے مضمون کو ترمذی اور ابوداؤد نے حضرت ابوبکر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنا خواب اس طرح بیان کیا؛ یا رسول اللہ! میں نے خواب میں دیکھا گویا ایک ڈول آسمان سےلٹکایاگیا، ابوبکرؓتشریف لائے اور اس ڈول کو اس کی رسیاں پکڑ کر پانی پیا ،یہاں تک کہ خوب سیراب ہوگئے ،پھر حضرت عثمان آئے اورانہوں نے اس ڈول کی رسیوں کو تھام کر پانی پیا یہاں تک کہ خوب سیراب ہوگئے پھر ان کے بعد علی آئے اور ڈول کی رسیوں کو تھاما تو وہ رسیاں کھل گئیں اور اس میں سے کچھ پانی حضرت علی پر آپڑا ،خلفاء اربعہ کے سلسلہ میں اور بہت سی احادیث منقول ہیں مگر ہم ان احادیث پر اکتفا کرتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ اسی قسم کے واقعات حضورﷺ کی وفات کے بعد رونما ہوئے۔