انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** سفرہجرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے القصوا پر سوار ہوکر روانگی سے پیشتر مکہ کی طرف دیکھا اورحسرت کے ساتھ فرمایا کہ مکہ تو مجھے تمام شہروں سے زیادہ عزیز ہے،مگر تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے نہیں دیا،حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا ہے،اب یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے، اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی: "أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ" اس جگہ غور کرنے کا مقام ہے کہ اب تک جس قدر مسلمان ہوئے ہیں وہ کن حالات میں اور کس طرح اسلام کی صداقت سے متاثر ہوکر انہوں نے کیسی کیسی روح فرسا اورکوہ شکن مصیبتوں کا مقابلہ کیا ہے،کیا مسلمانوں کی نسبت یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ یہ لالچ یا خوف کے ذریعہ مسلمان کئے گئے تھے؟ نہیں ،ہرگز نہیں،اب اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ زمانہ شروع ہوتا ہے جبکہ شریروں اورکلمۂ حق کی اشاعت کو روکنے کے لئے قتل وغارت سے باز نہ آنے والوں کو سزا دینے اوراشاعت حق کی راہ سے رکاوٹ کے دُور کرنے کی اجازت مل گئی ہے،اب آئندہ بھی غور کرتے جاؤ اوراس بات کو ذہن نشین رکھو کہ کس طرح لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ مختصر قافلہ رات کے پہلے ہی حصہ میں روانہ ہوگیا اوراگلے دن یکم ربیع الاول ۱۴ نبوی کے سہ پہر تک گرم سفر رہا،سہ پہر کے قریب خیمہ اُم معبد پر پہنچے،یہ بوڑھی عورت قوم خزاعہ سے تھی اورمسافروں کو پانی وغیرہ پلادیتی تھی،یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا دودھ پی کر اور تھوڑی دیر آرام فرما کر پھر روانگی کا حکم دیا، یہاں سے تھوڑی دُور چلے ہوں گے کہ پیچھے سے سراقہ بن مالک آپ کا تعاقب کرتا ہوا آپہنچا،سراقہ بن مالک بن جشم قریش مکہ میں ایک مشہور بہادر جنگ جو شخص تھا، سراقہ کا قصہ اس طرح ہے کہ سراقہ چند شخصوں کے ساتھ مکہ میں بیٹھا تھا،علی الصبح کسی شخص نے اس مجمع میں آکر کہا میں نے تین شتر سواروں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے وہ فلاں سمت کو جارہے تھے،میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقاء تھے،سراقہ نے یہ سنتے ہی اس شخص کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اورکہا کہ میں جانتا ہوں وہ فلاں شخص تھے،جو آج شب کو روانہ ہوئے ہیں، مدعاسراقہ کا یہ تھا کہ میں گرفتارکروں کوئی دوسرا شخص ان لوگوں میں سے نہ اُٹھ کھڑا ہو،ورنہ سوا ونٹ کا انعام مجھ کو نہ مل سکے گا، تھوڑی دیر بعد سراقہ اٹھا اوراپنے گھر آیا،اپنا گھوڑا اور ہتھیار چپکے سے شہر کے باہر بھجوادئے اورخود بھی لوگوں کی نگاہ سے بچتا ہوا باہر پہنچا، مسلح ہوکر گھوڑے پر سوار ہوا اوراونٹوں کے نقشِ قدم پر نہایت تیز رفتاری سے روانہ ہواچند ہی قدم چلنے پایا تھا کہ گھوڑے نے سکندری کھائی اور سراقہ نیچے گرپڑا،پھر سوار ہوا اورچل دیا،اس کو توقع تھی کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار یا قتل کرکے سو اونٹ انعام میں حاصل کرسکوں گا،جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء کے اونٹ سامنے نظر آنے لگے تو اس کے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی اوراس کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے،سراقہ پشتِ زین سے زمین پر گرا اوراُٹھ کر پھر سوار ہوا اورچلا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے بالکل قریب پہنچ کر اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا اور سراقہ پھر زمین پر آرہا،یہ حالت دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوا اورسمجھا کہ میں ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا ؛چنانچہ اس نے خود آواز دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا ٹھہرنے اورایک بات سُن لینے کی درخواست کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کو روک دیا،سراقہ نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے آیا تھا؛ لیکن اب میں واپس جاتا ہوں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگتا ہوں،مجھ کو ایک امان نامہ لکھ دیجئے اورمعاف کردیجئےمیں واپسی میں دوسرے لوگوں کو بھی جو میرے پیچھے اسی غرض سے آرہے ہوں گے واپس لے جاؤں گا؛چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یا ان کے خادم عامر بن فہیرہؓ نے اونٹ پر بیٹھے ہی بیٹھے ایک تحریر لکھ کر اس کی طرف ڈال دی اور وہ اس تحریر کو لے کر مکہ کی طرف واپس ہوا،راستہ میں اس کو اور بھی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں آتے ہوئے ملے،وہ سب کو یہ کہہ کر اس طرف کہیں سراغ نہیں چلا،واپس لے گیا، سراقہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگیا اوراسی تحریر کو اس نے فتح مکہ کے روز اپنے لئے دستاویز امان بنایا۔ غارِ ثور یعنی نشیبی مکہ سے روانہ ہوکر عبداللہ بن اریقط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحلِ سمندر کی جانب لے کر چلا،مقام عسقان سے ادھر تھوڑی دُور عام راستہ طے کرکے مقام اُمج کے زیریں جانب مقام قدید تک سفر کرتا رہا،پھر شارعِ عام کو کاٹ کر خزار کے میدان میں قطع مسافت کرتا رہا،مثنۃ المرہ،لفت،مدلجہ،مخاج وغیرہ مقامات میں ہوتا ہوا ذوالعضوین کے علاقے کو طے کرکے ذی سلم کے صحرا میں ہوتا ہوا العبا بید،العرج کے مقامات سے گزرا،العرج کی نشیبی وادی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قافلہ کا ایک اونٹ چلتے چلتے تھک گیا،وہاں قبیلہ اسلم کے ایک شخص اوس بن حجر سے ایک اونٹ لیا،اوس بن حجرنے اپنا ایک غلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا وہاں سے یہ قافلہ مثنۃ الغائر کا راستہ طے کرتا ہوا وادی ریم میں پہنچا، وادی ریم سے چل کر دوپہر کے وقت قبا کے قریب پہنچ گئے۔ سراقہ بن مالک کے واپس ہونے کے بعد تھوڑی ہی دُور چلے تھے کہ حضرت زبیر بن عوامؓ شام کے سفر سے تجارتی قافلہ لئے ہوئے مکہ کو واپس آتے ہوئے ملے،زبیر بن عوامؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کپڑے یعنی لباس پیش کیا، کہ میں بھی مکہ پہنچ کر جلد مدینہ پہنچتا ہوں،اس سفر میں جہاں جہاں لوگ ملتے تھے،حضرت ابو بکر صدیقؓ کو پہچان لیتے تھے ؛کیونکہ تجارت پیشہ ہونے کے سبب اکثر آتے جاتے رہتے تھے،لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ واقف نہ تھے، اس لئے وہ حضرت ابو بکرؓ سے دریافت کرتے تھے کہ یہ کون ہیں جو تمہارے آگے آگے جارہے ہیں،حضرت ابوبکرؓ ان کو جواب دیتے کہ ھذا یھدینی السبیل (یہ میرا رہبروہادی طریق ہے)