انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
عیدگاہ میں وقتِ مقررہ کے بعد نمازِ عید کے لئے لوگوں کا انتظار کریں یا نہ کریں؟ عید کے موقع پر کچھ لوگوں کا پیچھے رہ جانا متوقع ہے، لہٰذا امام اور حاضرین کو چاہئے کہ عجلت نہ کریں، وقت مقررہ کے بعد بھی پانچ سات منٹ ٹہر کر نماز شروع کی جائے، بیشک حاضرین کو ایسی موقع پر ذرا ضبط اور صبر سے کام لینا چاہئے، امام صاحب کو نماز شروع کرنے کا مشورہ تو دے سکتے ہیں لیکن اس پر اصرار نہیں کرنا چاہئے، امام کی بھی ذمہ داری ہے کہ حاضرین کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے پیچھے رہ جانے والوں کی رعایت کرے اور قراءت خطبہ میں اختصار کرکے تلافی مافات کرلے، سال میں دو موقعے آتے ہیں کہ بے نمازی بھی شرکت کرتے ہیں، ضعیف ، بیمار اور معذورین بھی ہوتے ہیں، نماز فوت ہوئی تو بڑی برکتوں سے محروم رہیں گے، لہٰذا قدرے انتظار کیا جائے اور تعاونوا علی البر پر عمل کرکے اجر کا مستحق بنا جائے، البتہ جو آخری وقت میں آنے کے عادی ہیں اور ان کو حاضرین کی تکلیف کا احساس نہیں ہے اور اپنی نماز کی بھی فکر نہیں ہے،اسی طرح انتظار کرتے ہیں، ایسے غافل کاہل اور سست لوگوں کا انتظار کرنا ان کی عادت بگاڑنا ہے، ان کا انتظار نہ کرے۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۶/۱۷۴، مکتبہ دارالاشاعت، کراچی)