انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
صرف توبہ سے قضاءنمازیں معاف ہوتی ہیں یا نہیں؟ جو نمازیں قضاء ہوگئی ہیں ان کی قضاء فرض ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک روز کی نماز کو بالترتیب قضاء کرتے رہیں اور نیت اس طرح کریں کہ وہ پہلی نماز فجر کی ادا کرتا ہوں جس کا وقت میں نے پایا اور اس کو ادا نہ کیا، اسی طرح ظہر، عصر ، مغرب عشاء وغیرہ کی نیت کرے اور حساب کرکے بلوغ سے توبہ کے وقت تک جتنے سال بے نمازی میں گذر چکے ہیں ان کی نمازوں کو قضاء کریں، اس کی دلیل یہ ہے قال اللہ تعالیٰ فی کتابہٖ: مرۃ بعد اخریٰ ۔ اقیموا الصلوٰۃ و اٰتوُ الزکوٰۃ ۔ اقیموا کا صیغہ امر کا ہے، اور امر وجوب کا تقاضہ کرتا ہے، لہٰذا نماز فرض ہوگئی اور جو چیز امر سے فرض ہوجاتی ہے اس سے سبکدوش ہونے کے دو ہی طریقے ہیں، تسلیم عینِ واجب یا اپنی طرف سے مثل واجب کی تسلیم کے ذریعہ اپنے ذمہ سے اصل واجب کو ساقط کرنے سے ، توبہ سے یا حج سے معاصی معاف ہوتے ہیں فرائض معاف نہیں ہوتے، جیسے اگر کسی نے حج یا توبہ کرلی تو قرضداروں کا قرض ایسا ہی اس کے ذمہ واجب ہے جیسے کہ پہلے تھا، اسی طرح حقوق اللہ سے بھی جو قرض ہے وہ بھی اداء کرنے سے ہی ادا ہوگا، بلکہ یہاں تک علماء نے لکھا ہے کہ توبہ سے نمازوں کی تاخیر کی معصیت معاف ہوگی اور فوراً ادا کرنا لازم ہوتا ہے، حتی کہ اگر پھر قضاء کرنے میں تاخیر کی تو از سر نو گنہگار ہوگا۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۴/۳۳۶، مکتبہ دارالعلوم دیوبند، یوپی)