انوار اسلام |
س کتاب ک |
|
*** حضرت عبداللہ بن ابی الہیعہؒ نام ونسب نام عبداللہ اورکنیت عبدالرحمن تھی(المعارف لابن قتیبہ:۲۲۱)اور سلسلہ نسب یہ ہے عبداللہ بن لہیعہ بن عقبہ بن فرعان بن ربیعہ بن ثوبان (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۳)مختلف حیثیتوں کی بنا پر حضرمی،اعدولی،اعدولی،غافقی اورمصری تمام نسبتوں سے مشہور ہیں۔ بشر بن منذر کا بیان ہے کہ عبداللہ بن لہیعہ کی کنیت ابو خریطہ تھی،اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ اپنی گردن میں ایک چارٹ لٹکائے مصر کی شاہراہوں پر گشت کیا کرتے اورجہاں کوئی شیخ مل جاتا تو اس سے اس کے اساتذہ وشیوخ حدیث کے بارے میں سوال کرتے،اگر کسی مستند شیخ کی روایت اس کے پاس مل جاتی،تو اس کا سماع کرکے فورا اسی چارٹ میں نوٹ کرلیتے ،اسی بناپر ابو خریطہ ان کی کنیت ہی پڑگئی۔ (میزان الاعتدال:۲/۶۷) ولادت صحیح روایت کے مطابق ۹۶ھ میں ان کی ولادت ہوئی۔ (کتاب الانساب ورق:۳۰۶) فضل وکمال علمی اعتبار سے وہ ممتاز اتباع تابعین اورحفاظِ حدیث میں تھے، انہیں بکثرت تابعین کرام کا شرفِ دیدار حاصل تھا؛چنانچہ روح بن فلاح کا بیان ہے: لقی ابن لھیعۃ الثنین وسبعین تابعیا (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۴) عبداللہ بن لہعیہ نے ۷۲تابعین عظام سے ملاقات کی تھی۔ بلاشبہ اس شرف وسعادت میں ان کے ہم پلہ شاذ ونادر ہی مثالیں مل سکتی ہیں،حدیث اورفقہ میں درجہ امتیاز رکھتے تھے،علماء نے ان کے گونا گوں فضل و کمال کو سراہا ہے،سفیان ثوری کا ارشاد ہے: عند ابن لھیعۃ الاصول وعند نا الفروع (العبر:۱/۲۶۴) ابن لہیعہ اصولوں کے حامل تھے اور ہمارے پاس صرف فروع ہیں۔ امام احمدؒ کا قول ہے: ماکان محدث بمصر الا ابن لھیعۃ (میزان الاعتدال:۲/۶۵) مصر میں ابن لہیعہ کے علاوہ کوئی محدث ہی نہ تھا۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ جب ابن لہیعہ کی وفات ہوگئی تو لیث بن سعد نے برجستہ فرمایا کہ ‘علم وفضل میں انہوں نے اپنا کوئی جانشین نہیں چھوڑا’ (ایضاً) شیوخ وتلامذہ ذکر آچکا ہے کہ ابن لہیعہ کو اپنی بخت آوری کی بنا پر ۷۲ تابعین کرام سے شرفِ لقاء حاصل تھا،ان میں سے اکثر آئمہ کے علاوہ انہوں نے دوسرے کبار اتباع تابعین سے بھی اپنی تشنگی علم کو فرو کیاتھا، ان کے شیوخ واساتذہ کی طویل فہرست میں کچھ ممتاز نام یہ ہیں،عطاء بن ابی رباح، محمد بن المنکدر، عطا بن دینار،محمد بن عجلان،اعرج،ابی الزبیر،موسیٰ بن وردان ،ابی یونس مولیٰ ابی ہریرہ ،عبدالرحمن بن زیاد، عقیل بن خالد۔ اسی طرح خود ابن لہیعہ کے چشمۂ علم سے سیراب ہونے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جس میں ان کے پوتے احمد اور بھتیجے لہیعہ بن عیسیٰ بن لہیعہ کے علاوہ سفیان ثوری، شعبہ،اوزاعی،عمروبن الحارث لیث بن سعد،عبداللہ بن مبارک،ابن وہب،ولید بن مسلم، اسد بن موسیٰ،اشہب بن عبدالعزیز،یحییٰ بن اسحاق اورقتیبہ بن سعید جیسے دنیائے فضل وکمال کے درخشاں تارے شامل ہیں۔ (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۴) ضبط واتقان ثقاہت وعدالت اورحفظ وضبط میں ابن لہیعہ کا پایہ نہایت ہی بلند تھا، امام احمد کا بیان ہے کہ: لم یکن بمصر مثل ابن لھیعۃ فی کثرۃ حدیثہ وضبطہ واتقانہ (العبر فی خبر من غبر:۱/۲۶۴) مصر میں کثرتِ حدیث،ضبط اوراتقان میں ابنِ لہیعہ عدیم المثال تھے۔ عبداللہ بن وہب جنہیں ابن لہیعہ سے خصوصی تلمذ کی سعادت حاصل ہے روایت کرتے وقت فرمایا کرتے تھے۔ حدثنی واللہ صادق البار (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۶) مجھ سے بخدا صادق وسچے شخص نے روایت کیا۔ علاوہ ازیں اوربھی بہت سے بیانات ان کی عدالت وصداقت کے شاہد عدل ہیں،امام بخاری،امام مسلم،نسائی وغیرہ نے ان کی روایات کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔ جرح لیکن ابن لہیعہ کی یہ کیفیت آخر عمر تک قائم نہ رہ سکی اورکبر سنی کی بناء پر دوسرے محدثین کی طرح ان کا حافظہ بھی کمزور ہوگیا تھا؛چنانچہ ابو جعفر طبری بیان کرتے ہیں کہ اختلط عقلہ فی اخر عمرہ (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۶) اسی بنا پر علماء وناقدینِ فن نے ابن لہیعہ کے حفظ وضبط اورثقاہت واتقان کا اعتراف کرنے کے ساتھ جرح کا حق بھی ادا کیا ہے ضعفِ حافظہ کے علاوہ ایک المیہ اوربھی ان کے ساتھ پیش آگیا،جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس وقت کے عام دستور کے مطابق ابن لہیعہ نے مختلف شیوخ کی مسموعہ روایات کو بہت سی کاپیوں میں لکھ کر جمع رکھا تھا ،وفات سے ۴ سال قبل ۱۷۰ ھ میں سوءِ اتفاق سے ان کے مکان میں آگ لگ گئی اورروایات کا یہ تمام بیش بہا ذخیرہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ اسی وجہ سے علمائے فن کا خیال ہے کہ اس حادثہ عظمیٰ کے پیش آنے سے قبل کی ابن لہیعہ کی روایات قابلِ قبول ہیں؛ لیکن اس کے بعد کی نہیں؛چنانچہ علامہ سمعانی رقم طراز ہیں: کان اصحابنا یقولون ان سماع من سمعہ منہ قبل احتراق کتبہ مثل العبادلہ بسماعھم صحیح ومن سمع بعد احتراق کتبہ فسماعہ لیس بشئی (کتاب الانساب ورق:۴۰۶) ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ چاروں عبداللہ کی طرح جس کسی نے ابن لہیعہ سے ان کی کتابوں کے جلنے سے قبل سماع حاصل کیا وہ صحیح اوردرست ہے؛لیکن اس حادثہ کے بعد کے سامعین کا سماع غیر مقبول ہے۔ ابن سعد خامہ ریز ہیں: کان ضعیفاً ومن سمع منہ فی اول امرہ احسن حالاً فی روایتہ ممن سمع منہ بآخرہ (ابن خلکان:۱/۴۴۶،وابن سعد:۷/۲۰۴) وہ ضعیف تھے اورجس نے شروع میں ان سے سماع کیا اس کی روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مقابلہ میں جس نے آخر عمر میں ان سے سماعت کی۔ امام احمدؒ کا بیان ہے احترقت کتبہ وھو صحیح الکتاب ومن کتب عنہ قدیما فسماعہ صحیح (خلاصہ تذہیب تہذیب الکمال:۲۱۱) ان کی کتابیں جل گئیں تھیں وہ ثقہ اورصحیح الکتاب تھے،جس نے ان سے شروع ہی میں سماع کیا وہ درست ہے۔ لیکن اہل مصر کا خیال ہے کہ ابن لہیعہ کا حافظہ شروع سے آخر تک یکساں قائم رہا،آخر عمر میں کوئی اختلاط پیدا نہیں ہوا تھا۔ (طبقات ابن سعد:۷/۲۰۴) عہدۂ قضا فقہ وافتاء میں غیر معمولی مہارت اوردقیقہ رسی حاصل تھی،اس خصوصیت کی بنا پر عہدِ عباسی میں مسند قضا کی بھی زینت بنے،جب ۱۵۵ھ میں قاضی مصر ابو خزیمہ کی وفات ہوگئی،تو خلیفہ ابو جعفر منصور نے عبداللہ بن لہیعہ کو بصد اکرام واعزاز مصر کا قاضی مقرر کیا، اس سلسلہ میں انہیں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ سب سے پہلے قاضی ہیں جن کا تقرر خود خلیفہ نے کیا،ورنہ اس سے پہلے تمام صوبوں کے والی اپنے اپنے علاقہ میں قضاۃ کا انتخاب وتقرر کرتے تھے (اخبار القضاۃ:۳/۲۳۵،وحسن المحاضرۃ:۲/۸۸)خلیفہ نے تیس دینار ماہانہ ان کا منصبی مشاہرہ بھی متعین کیا تھا،مصر کے قضاۃ میں سب سے پہلے ان ہی کو یہ وظیفہ ملا۔ (تاریخ ابن خلکان:۱/۴۴۷) انہوں نے تقریباً ۹ سال تک اپنے منصبی فرائض کو نہایت حسن وخوبی کے ساتھ انجام دیا اور پھر ماہ ربیع الاول ۱۶۴ھ میں اس سے سبکدوش ہوگئے۔ وفات سنہ وفات کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں،لیکن اصح یہ ہے کہ ہارون الرشید کے ایامِ خلافت میں یومِ یکشنبہ ۱۵ ربیع الاول ۱۷۴ ھ کو ان کی زندگی کا چراغ گل ہوا، وفات کے وقت ۸۱ سال کی عمر تھی۔ (تہذیب التہذیب:۵/۳۷۷واخبار القضاۃ:۳/۲۳۶ وابن خلکان:۱/۴۴۷،وطبقات ابن سعد:۷/۲۰۴)